’یہ حکومت رہی تو حالات مزید خراب ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مجھے تو یہ دہرے معیار سمجھ میں نہیں آتے: نواز شریف

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کو جلد از جلد انتخابات کروا دینے چاہیئیں کیونکہ یہ حکومت کے اپنے حق میں ہے اور اگر وہ مزید بارہ یا تیرہ ماہ رہتی ہے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔

کراچی میں صحافیوں اور کالم نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکمران اگر سمجھتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کیری لوگر بل کے ذریعے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور متنازع میمو کا سلسلہ کیوں شروع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم سے بات کرتے تو ہم کہتے آؤ بیٹھو اس پر عملدرآمد کرو، (اور) اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے ختم کریں‘۔

ان کا کہنا تھا ’جب وہ ایبٹ آباد کمیشن کی بات کر رہے تھے تو نئوں ڈیرو اور رتوڈیرو سے کہا گیا کہ نواز شریف کون ہوتا ہے؟ وہ ہمارے فوجی جوانوں کے خلاف سوچ رکھتا ہے۔ کیا یہ باتیں کرنے والی تھیں؟ مجھے تو یہ دہرے معیار سمجھ میں نہیں آتے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ جمہوری نظام کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب منتخب صدر کے خلاف گو زرداری گو کے نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ اس پر میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ ’اس میں فوج کی قیادت کا کوئی کردار ہے نہ ایجنسیوں یا آئی ایس آئی کا۔ حکومت رہتی یا جاتی ہے مگر فوج کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی کردار ناقابل قبول ہوگا‘۔

پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کو وزرات داخلہ کے ماتحت کرنے کے بارے میں نواز شریف کا کہنا تھا ’حکومت ان سے بات کرتی تو مل بیٹھ کر پارلیمنٹ کے ذریعے راستہ نکالتے‘۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوج کا بجٹ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ جہاں تک ایجنسیاں ہیں اس کا بجٹ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کیا جائے جو اسے منظور کرے، منظوری کے بعد ان بجٹوں کا آڈٹ بھی کیا جائے، اور یہ کام آسان تھے کیونکہ یہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں لکھا ہوا ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

میاں نواز شریف نے کراچی میں مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارہ اور تاجروں کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔

اسی بارے میں