سوارہ کا مطالبہ، بچی کو تحفظ دینے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے سوارہ کے تحت چار سالہ بچی طلب کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم بھی دیا ہے

پشاور ہائی کورٹ نے ایک چار سالہ بچی کو سوارہ کی رسم کے تحت شادی کے لیے طلب کیے جانے پر بچی اور اس کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم ایک ایسی درخواست پر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مخالف گروہ طلاق لینے والی لڑکی کے بدلے میں چار سالہ معصوم بچی کو سوارہ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ہائیکورٹ نے انتظامیہ اور پولیس سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ذمہ دار افراد کوگرفتار کر کے اس مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو عدالت میں پیش کریں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر سے تعلق رکھنے والے حفیظ الرحمان نےگزشتہ روز پشار ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی کہ ان کے مخالفین ان کی چار سالہ بہن عاصمہ کو سوارہ میں طلب کرنے اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مخالفین ان کے والد اور ایک بھائی کو نومبر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر چکے ہیں۔

حفیظ الرحمان کے ماموں نیک محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ایک بھانجی رقیہ کی شادی ایک خاندان میں ہوئی تھی جہاں ان کے جھگڑے شروع ہوئے جس پر رقیہ نے عدالت کے توسط سے طلاق لی اور دوسری جگہ ان کی شادی کرا دی گئی جس پر رقیہ کے پہلے شوہر کے خاندان والے ان کے مخالف ہوگئے اور انہوں نے رقیہ کی دوسری شادی کرانے پر چار سالہ عاصمہ کو سوارہ میں طلب کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے روایتی طریقے سے بدلہ چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سوارہ کے واقعات ان علاقوں میں ہوتے رہتے ہیں ۔

مردان میں سوارہ کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ عہدیدار سہیل کاکا خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ سوارہ کے واقعات میں اگرچہ قانون سازی کے بعد کمی آئی ہے لیکن اب بھی یہ رسم کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو اس طریقے سے ونی یا سوارہ کیا گیا کہ لڑکی پر یہ پابندی عائد کی گئی کہ وہ ساری زندگی شادی نہیں کرے گی اور اپنے والدین کے گھر میں رہے گی ۔ اس طرح مختلف طریقوں سے خواتین یا کم عمر لڑکیوں کو شرائط پر پابند کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی نشاندہی اس لیے مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس میں اکثر اوقات دونوں جانب سے رضا مندی ظاہر کردی جاتی ہے ۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم کے معاون چیئرپرسن کامران عارف ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سوارہ علاقے میں ایک روایت ہے اور معاشرے میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں پہلے قانون سازی نہیں تھی لیکن مسلم لیگ ق کے دور میں قصاص اور دیت کے قانون میں سوارہ کے حوالے سے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں اور اب خواتین کے حوالے سے نئے قوانین کے مسودے میں اسے صرف فوجداری نہیں بلکہ سول مقدمات میں بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

کامران عارف ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان واقعات کی نشاندہی میں اپنا کردار ضرور ادا کرتی ہیں لیکن چونکہ اس طرح کے واقعات میں مقامی لوگ شریک ہوتے ہیں اور یہ سب کی مرضی سے ہو رہا ہوتا ہے اس لیے یہ واقعات ذرائع ابلاغ یا انسانی حقوق کی تنظیموں کو رپورٹ نہیں کیے جاتے۔

اسی بارے میں