چارسدہ: دو سکولوں کی عمارتیں تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں واقعات منگل کی صُبح چار بجے کے قریب پیں آئے: پولیس اہلکار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد نے لڑکیوں اور لڑکوں کے دو سرکاری پرائمری سکولوں کی عمارتوں کو دھماکہ سے تباہ کردیا۔

پولیس اہلکار نیاز محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں واقعات منگل کی صُبح چار بجے کے قریب تحصیل شبقدر کے دو مختلف علاقوں خواجواز کور اور باڑاسی غنڈی میں پیش آئے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے واقعہ میں شبقدر بازار سے کوئی پانچ کلومیٹر دور شمال کی جانب خوجواز کور میں نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا جس کے پھٹنے سے سکول کے تین کمرے اور چاردیواری مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا واقعہ شبقدر بازار سے مغرب کی جانب علاقہ باڑاسی غنڈی میں پیش آیا ہے جہاں نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکوں کے ایک پرائمری سکول میں دو دھماکے کیے جس سے سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ جبکہ چاردیواری کو جزوی نقصان پہنچا۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے بعد ضلع چارسدہ، مردان اور صوابی کے علاقوں میں بھی گزشتہ ایک عرصے سے سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ضلع چارسدہ کی سرحدیں مہمند ایجنسی سے ملتی ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی نے قبول کی ہے۔ مہمند ایجنسی میں شدت پسند طالبان کمانڈر عمر خالد کے معاون مُکرم خراسانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مزید سکولوں کو نشانہ بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تعلیم کے مخالف نہیں لیکن پاکستان میں موجود نظامِ تعلیم مغربی سوچ کو تقویت دے رہا ہے اور اس میں اسلام کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے۔ بقول مُکرم خراسانی، پاکستان کے تمام سکولوں میں غیر اسلامی نظام تعلیم چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت تک سکولوں پر حملے کرتے رہیں گے جب تک پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوجاتا۔

سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں نے اب تک سات سو سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی سے پہلے بھی ایسے سینکڑوں سکول موجود ہیں جنہیں پولیٹکل انتظامیہ کے مراعات یافتہ لوگ مہمان خانوں کے طور پر استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ سکول کو مہمان خانہ بنایاگیا ہے بلکہ گریڈ چار میں اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو بھرتی کروا کے ان کے نام پر تنخواہیں بھی وصول کرتے ہیں۔

چند دن پہلے پشاور میں قائم فاٹا سیکرٹیریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیاگیا تھا کہ فاٹا میں ایسے کئی سکول موجود ہیں جن کے اساتذہ قبائلی سردار ہیں جو اپنی ڈیوٹی کی بجائے دوسرے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سردار ڈیوٹیوں سے سالہاسال غیر حاضر رہتے ہیں۔

اسی بارے میں