جناح پور مفروضہ نہیں حقیقت تھا: آفاق احمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ انیس سو بانوے میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن خود ایم کیو ایم کی قیادت کی رضامندی سے کیا گیا تھا اور اس وقت جناح پور مفروضہ نہیں حقیقت تھا۔

کراچی کے علاقے لانڈھی میں پولیس کے حفاظتی حصار میں اپنے گھر میں آفاق احمد نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے انیس بانوے کے آپریشن کی حمایت نہیں کی تھی۔

’ایم کیو ایم موجودہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عظیم احمد طارق، ڈاکٹر عمران فاروق اور سلیم شہزاد فوج کے ساتھ اجلاس میں شریک تھے اور ان کی رضامندی پر یہ آپریشن ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’اس آپریشن میں کیا ٹارگٹ حاصل کرنے تھے، اس پر ان لوگوں نے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ اب ایم کیو ایم کی قیادت غلط بیانی کرتی ہے کہ ان کے خلاف آپریشن کیا گیا اور ظلم ہوا۔ دراصل یہ کارکنوں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ان کی رضامندی کے شواہد موجود ہیں، یہ ٹیلی ویژن پر بھی نشر ہوا تھا۔‘

آفاق احمد کے مطابق’اس مرتبہ جب ایم کیو ایم پر دباؤ تھا اور جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹس آئیں کہ ان ان لوگوں کو حکام گرفتار کریں گے تو ایم کیو ایم کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے معاہدہ کیا کہ پورے شہر میں وہ جہاں چاہیں اور جسے چاہیں اٹھا لیں وہ احتجاج نہیں کریں گے مگر خدا کے واسطے نائن زیرو پر نہ آئیں۔‘

بقول ان کے متحدہ قومی موومنٹ کے جو کارکن ملیر، شاہ فیصل اور فیڈرل بی ایریا میں الطاف حسین کی ہدایت پر کام کرتے تھے وہ تو استعمال ہوگئے۔

کراچی میں انیس بیانوے کے آپریشن کے دوران ایم کیو ایم پر علیحدگی اور جناح پور کے الزامات بھی عائد کیے گئے، مگر بریگیڈیئر ریٹائر امتیاز نے ان کو مسترد کیا۔

آفاق احمد ان الزامات کو حقیقت قرار دیتے ہیں۔’وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ الطاف حسین نے کارکنوں کو باقاعدہ بریفنگ دی کہ مہاجر عوام اسمبلی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، اس لیے علیحدگی کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔‘

’الطاف حسین اپنے استاد محترم سے پوچھتے تھے کہ اگر انہیں اقوام متحدہ میں تقریر کرنی پڑے تو وہ کیسے کر سکتے ہیں تو ان کے استاد نے انہیں کہا کہ بیٹا اقوام متحدہ میں تقریر ملک بنا کر اس کے سربراہ کے طور پر کر سکتے ہو۔ تمہارا خواب اور عزائم کیا ہیں؟ الطاف حسین اس زمانے سے اپنی اس سوچ کو پروان چڑھا رہے تھے اور وہ آج بھی اسی مشن پر گامزن ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مہاجر قومی موومنٹ پر اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر فعال ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں جن کو آفاق احمد سختی سے مسترد کرتے ہیں، اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر چل رہے ہوتے تو الطاف حسین کی طرح وہ بھی کہیں نہ کہیں باہر بیٹھے ہوتے، اس کے برعکس انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرایا اور تمام دھمکیوں کو مسترد کیا۔

کراچی میں پچھلے دنوں اردو اور پشتون آبادیوں میں کشیدگی رہی، جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں، آفاق احمد کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کی کوئی وجہ نہیں ہے ناعاقبت اندیش سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں یہ شہر گھیرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے جذباتی اور نفرت آمیز نعروں کی وجہ سے یہ تصادم ہوتے ہیں جو اپنے مفادات کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔

’یہ عوام میں سوچ پیدا کرنا کہ پشتون مہاجروں اور ان کے معاشی مستقبل کےلیے خطرہ ہیں یہ بلکل غلط ہے، یہ درست ہے کہ دوسرے صوبوں سے لوگوں کی آمد ہوتی ہے، یہاں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔ بے ترتیب اور بے ہنگم طریقے سے یہ شہر پھیلتا چلا جا رہا ہے۔‘

آفاق احمد کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا کلیدی کردار ہے، اگر وہ چاہتے تو دوسروں صوبوں سے آنے والے لوگوں کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرتے اس قسم کی صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی، اب لوگوں کی آمد کو روکنے کا طریقہ یہ اختیار کریں کہ مخصوص زبان بولنے والوں کو آپ ماریں گے تو ان کی آمد کا سلسلہ بند ہوجائے گا تو ایسا درست نہیں ہے۔

مہاجر حقیقی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جس نے شہر کو مقبوضہ علاقہ بنا رکھا ہے اور اس تسلط کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو مزاحمت کا سامنا تو کرنا ہوگا، مگر وہ اپنا سر دے دیں گے مگر کسی سے تصادم نہیں کریں گے۔

’ہم نے حکومت کو واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کی احکامات کی روشنی میں جو اقدامات ہیں وہ حکومت کرے ہم اپنی یا اپنے ساتھیوں کی سکیورٹی کا بندوبست نہیں کر سکتے، اس صورتحال میں اگر کوئی تصادم کرنا چاہے تو حکومت اسے روکے۔‘

آفاق احمد سندھ کے جنوبی سندھ صوبے کے حمایتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو الگ انتظامی یونٹ بنانا چاہیے تاکہ سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ جن کے وسائل ہیں ان کو درست طریقے سے استعمال کیا جا سکے، جو ان کی پریشانیاں اور مشکلات ہیں انہیں دور کیا جا سکے، اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔

آفاق احمد نے کراچی میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کے ہم خیال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونی چاہیے تاکہ ٹاؤن اور یونین کونسل کی سطح پر لوگوں میں فیصلہ سازی میں شرکت کا شعور پیدا ہو، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ شہر میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہوں اور لوگ اپنے حقیقی نمائندوں کو ایوانوں میں بھیج سکیں۔

اسی بارے میں