’فوج نے میمو تنازع کی چھان بین کی تو کیا ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ متنازعہ میمو سے متعلق درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دے: گورنر پنجاب

گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اگر فوج نے میمو تنازع پر تشویش ظاہر کی اور اس کی اپنے طور پر چھان بین کی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گورنر پنجاب نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ میمو تنازع میں فوج نے جو بھی کردار ادا کیا ہے اس پر آئین کا آرٹیکل چھ لاگو نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق آرٹیکل چھ کا اطلاق اس شخص پر ہوگا جس پر بغاوت کا الزام عائد کیا جائے اور اس جرم کی سزا موت ہے۔

گورنر نے کہا کہ میمو تنازعہ کو خوامخواہ طول نہیں دیا جانا چاہیے اور جنرل جیمز جونز کے بیان کے بعد یہ تنازع اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میمو منصور اعجاز کی اپنی اختراع تھی اور اس کے مندرجات بھی ناقابلِ اعتبار ہیں۔

انہوں نےکہا کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بعد معاملہ اس حد تک خراب تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے پارلیمنٹ میں یہ کہہ دیا تھا کہ وہ اسی وقت وردری اتار کر جانے کو تیار ہیں۔گورنر نے کہا کہ جب فوج کی یہ صورتحال تھی تو یہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ فوج حکومت کا تختہ الٹنے لگی ہے؟

گورنر نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کو سپریم کورٹ میں یہ معاملہ لےکر نہیں جانا چاہیے تھا لیکن یہ شاید ان کی سیاست کا تقاضا تھا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ وہ اس رٹ کو ناقابل سماعت قرار دے دے۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو پارٹی ایٹم بم کی خالق اور جس کی رہنماء بےنظیر کے دور میں ایسے میزائل بنائےگئے ہوں جو ہندوستان کے آخری کونے تک مار کر سکتے ہوں وہ پارٹی ایٹمی اثاثوں کو کیسے نقصان پہنچنے دے گی۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ میموتنازع کی وجہ سے نہ تو پیپلز پارٹی کی حکومت ہلی ہے اور نہ ہی اس کے جانے کا خدشہ پیدا ہوا۔ یہ سب میڈیا کا کمال تھا اور انہیں اپنے نیوز چینل چلانے کے لیے کوئی نہ کوئی خبر تو چاہیے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان وطن واپس آچکے ہیں وہ مکمل صحت مند ہیں اور ان کے نزدیک میمو کا معاملہ اتنا اہم نہیں ہے کہ وہ اس پر خود سے کوئی پریس کانفرنس کریں۔

ایک سوال کے جواب میں گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ لاہور کے گورنر ہاؤس کی جگہ پر کوئی سکول یا کوئی دیگر تعمیرات کے خلاف ہیں۔ان کے بقول گورنر ہاؤس پاکستان کی پہنچان اور ایک ثقافتی ورثہ ہے اور صدر وزیر اعظم کے علاوہ اہم غیر ملکی شخصیات بھی اس میں آکر ٹھہرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی بیوقوفی کی وجہ سے عمران خان پنجاب میں زور پکڑگئے ہیں اور آئندہ انتخابات میں فیصلہ اس بات کا ہونا ہے کہ پیپلز پارٹی کی اصل حریف مسلم لیگ نون ہے یا پھر تحریک انصاف ہے۔

اسی بارے میں