’فوج، آئی ایس آئی پر آپریشنل کنٹرول نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ بائیس دسمبر سے اس متنازع میمو سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کرے گا

پاکستان کی وزارتِ دفاع نے میمو کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ملک کی بری فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر اس کا صرف انتظامی کنٹرول ہے جبکہ آپریشنل کنٹرول نہیں ہے۔

عدالت عظمیٰ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بیان حلفی میں وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی بری فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر اس کا صرف انتظامی کنٹرول ہے جبکہ آپریشنل کنٹرول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم گیلانی اس سے پہلے متعدد بار اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ آئی ایس آئی، فوج حکومت کے ماتحت ہے اور وہ حکومت کی مرضی سے ہی کوئی کام کرتی ہے۔

آئی ایس آئی کا’کنٹرول واپس‘

وزارتِ دفاع نے بیان حلفی میں مزید کہا ہے کہ منصور اعجاز اور حسین حقانی کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانات میں جو کچھ کہا گیا ہے اس ضمن میں وزارت دفاع کو علم نہیں، کوئی بات چیت نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی معلومات ہیں۔

خیال رہے کہ انیس دسمبر کو سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں اور ان درخواستوں میں بنائے گئے فریقوں کو بائیس دسمبر تک اپنے بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

ابھی تک بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی، آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، وفاق، وزارتِ دفاع نے بیان حلفی جمع کرا دیے ہیں جب کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی، صدر آصف علی زرداری اور میمو تنازع کے مرکزی کرادر منصور اعجاز نے ابھی تک اپنا بیان حلفی جمع نہیں کرایا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے متنازع میمو سے متعلق جواب الجواب بیان حلفی کے ساتھ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اُس کی تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

یہ بیان حلفی اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کروایا گیا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے اس میمو کے اہم کردار منصور اعجاز سے ملاقات کے بعد چوبیس اکتوبر کو اس ملاقات کے بارے میں اُنہیں(اشفاق پرویز کیانی)کو جو بریفنگ دی اُس میں ڈی جی آئی ایس آئی کے بقول امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے اس میمو سے متعلق منصور اعجاز کے ساتھ رابطوں کے ثبوت موجود ہیں۔

آرمی چیف نے اپنے بیان حلفی میں امریکی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل مائیک مولن کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اُنہوں نے پہلے تو اس میمو کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا بعدازاں کچھ روز کے بعد اُنہوں نے اس میمو کے وصول کرنے کی تصدیق کی تھی۔

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اکیس نومبر کو امریکی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اُنہوں نے منصور اعجاز سے جو میمو وصول کیا تو وہ اُنہوں نے مائیک مولن کو پہنچا دیا تھا۔

اُنہوں نے اپنے بیان حلفی میں پندرہ، سولہ اور بائیس نومبر کو صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ بری فوج کے سربراہ نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ اُن کے علم میں جو بھی حقائق تھے وہ اُنہوں نے عدالت سے نہیں چھپائے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور دیگر درخواست گُزاروں کی جانب سے بھی بیان حلفی عدالت میں جمع کروائے گیے ہیں جس میں اُنہوں نے اپنی درخواست میں دیے گئے موقف کو دہرایا ہے۔

صدر آصف علی زرداری،جو پاکستان کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اُن کی طرف سے ابھی تک بیان حلفی جمع نہیں کروایا جا سکا۔ صدر کی جانب سے سپریم کورٹ کے یکم دسمبر کے حکم کے باوجود بھی جواب داخل نہیں کروایا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل کے آفس کے ایک اہلکار کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے بھی ابھی تک اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع نہیں کروایا جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی، وفاق، سیکرٹری وزارت خارجہ اور سیکرٹری داخلہ کی جانب سے بھی ابھی تک بیان حلفی کے ساتھ جواب الجواب داخل نہیں کروائے گئے۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تیرہ دسمبر کو برطانوی روزنامہ ’انڈیپنڈنٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عرب ممالک کے دورے کے بارے میں کیے جانے والے دعوے جھوٹے ہیں۔

اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں فوجی بغاوت کی اجازت مانگی۔ وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ اس خبر کی کسی بھی سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

بیان نے مزید واضح کیا گیا ہے کہ مضمون کے دعوے کے برعکس ڈی جی آئی ایس آئی نے پہلی مئی اور نو مئی کے دوران کسی بھی عرب رہنما سے ملاقات نہیں کی اور اس عرصے سے قبل یا بعد میں، ڈی جی آئی ایس آئی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے معمول کے مطابق انٹیلیجنس کے اشتراک کے سلسلے میں تھے اور وہ صرف اپنے ہم منصب اہلکاروں سے ملے۔

وضاحتی بیان نے مضمون کے مواد کی سختی سے اور دو ٹوک تردید کی اور بتایا کہ اخبار کو یہ خبر واپس لینے کے لیے اور معافی مانگنے کے لیے قانونی نوٹس بھیجا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں