’تئیس فروری تک ووٹر لسٹ تیار کریں‘

الیکشن کمیشن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الیکشن کمیشن کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے حتمی انتخابی فہرستوں کی تیاری میں تاخیر ہوئی:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی ووٹر لسٹوں کی تیاری میں مذید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ تئیس فروری تک فہرستیں مکمل کرلی جائیں ورنہ ذمہ دارں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس مذکورہ تاریخ تک حتمی فہرستوں کا کام مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس مدت کو مئی تک بڑھا دیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے جعلی ووٹر لسٹوں سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کے جوائنٹ سیکرٹری شیر افگن نے عدالت کو بتایا کہ پہلے توقع تھی کہ جعلی ووٹوں کی نشاندہی کے لیے چند لاکھ فارم آئیں گے لیکن یہ تعداد کروڑوں میں چلی گئی ہے جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن پر حتمی ووٹر لسٹیں تیار کرنا ممکن نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں فارم پراسیس کر رہا ہے اس لیے حتمی ووٹر لسٹوں کی تیاری میں مذید مہلت دی جائے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس نے جوائینٹ سیکرٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ پکا پکایا پلیٹ میں رکھکر دے دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ دو سال سے سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بار بار ہدایات جاری کر رہی ہے کہ وہ ووٹر لسٹوں کو حتمی شکل دینے کے لیے شروع کیے گئے طریقہ کار کو فوری طور پر مکمل کرے۔

بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افرادی قوت ہونے کے باوجود ووٹر لسٹوں کو حتمی شکل نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

یاد رہے کہ سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں ساڑھے تین کروڑ جعلی ووٹوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں