نئے کمیشن کا بل منظور، کہیں بھی قید افراد سے ملنا ممکن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ واضح نہیں ہے کہ کمیشن ’لاپتہ‘ افراد کا پتہ لگانے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بدھ کو انسانی حقوق کے کمیشن کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت کمیشن کے اہلکار کسی جیل، ادارے یا جگہ قید افراد سے مل سکیں گے۔ بل کے تحت کمیشن کے اہلکار آئین، قانون اور جیل مینوئل کے مطابق کہیں بھی سہولیات کا جائزہ لے سکیں گے۔

انسانی حقوق کا یہ قومی کمیشن ازخود یا کسی مظلوم کی درخواست پر تحقیقات کر سکتا ہے اور متعلقہ حکومتی ادارہ تیس یوم کے اندر کمیشن کو جواب دینے کا پابند ہوگا۔ اگر کوئی معاملہ کسی عدالت میں زیر سماعت ہو تو اس میں کمیشن فریق بننے کے بعد عدالت کی منظوری سے تحقیقات کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں سفارش کی گئی تھی تمام رکن ممالک ریاستی ادارے کے طور پر انسانی حقوق کے کمیشن قائم کریں تاکہ عوام کو بنیادی انسانی حقوق بہتر انداز میں مل پائیں۔ دنیا میں اس وقت پچاس سے زائد ممالک میں اس طرح کے کمیشن قائم ہو چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مشیر برائے حقوقِ انسانی مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اس کمیشن کے قیام سے لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد ملےگی۔

یہ بل موجودہ حکومت نے سنہ دو ہزار آٹھ میں متعارف کرایا تھا لیکن مختلف شقوں پر اختلاف رائے کی وجہ سے اسے منظوری کے لیے پیش کرنے میں تاخیر ہوئی۔ بدھ کو حکومت نے حزب مخالف کی چودہ ترامیم منظور کرلیں جس کے بعد یہ بل اتفاق رائےسے منظور کیا گیا۔

حکومت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق تو بنا دیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ کمیشن سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کو رکوانے میں بھی کوئی اہم کردار ادا کر پائے گا کہ نہیں۔

اب اسے منظوری کے لیے ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائےگا۔حکومت نے کہا ہے کہ اس بل کا مقصد دستورِ پاکستان کے مطابق اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنے اور اقوام متحدہ کی جانب سے انیس سو ترانوے میں منظور کردہ ایک قرارداد پر عمل کرنا ہے۔

بل کے تحت کمیشن قوانین میں ترمیم کی سفارش بھی کرسکتا ہے۔

پاکستان میں ایک خود مختار قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن اور اراکین حکومت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے مقرر کرے گی۔

قومی اسمبلی میں منظور شدہ بل کے تحت حقوقِ انسانی کمیشن کا چیئرپرسن سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہونا ضروری ہوگا اور اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ انسانی حقوق کے بارے میں علم اور تجربہ رکھتا ہو۔

کیونکہ بظاہر شہریوں کے اچانک لاپتہ ہونے کے زیادہ تر واقعات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزام لگتا ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں ریاستی مشینری چاہے وہ پارلیمان ہو یا عدلیہ وہ ان کے سامنے بظاہر بے بس ہی نظر آئے ہیں۔

کمیشن میں ہر صوبہ، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے ایک ایک رکن جبکہ اقلیتی برادریوں سے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔

بل کے مطابق کمیشن کا ایک سیکریٹری ہوگا جس کا تعین کمیشن خود کرے گا۔

کمیشن میں کم از کم تین خواتین اراکین کا ہونا لازم ہوگا اور کوئی رکن تیس برس سے کم عمر کا نہیں ہوگا۔ اراکین پر لازم ہوگا کہ انہیں انسانی حقوق کے شعبے کا علم اور تجربہ ہو۔

کمیشن کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہوگا اور تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز اور دیگر ایسے مقامات جہاں مناسب خیال ہو وہاں دفاتر قائم کر سکےگا۔ کمیشن کے چیئرپرسن کی مدت چار سال ہوگی اور انہیں ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا جائے گا۔

چیئرپرسن کے عہدے میں ایک بار توسیع کی گنجائش ہوگی۔ چیئرپرسن یا کوئی رکن اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ صدرِ پاکستان کو پیش کرے گا اور حکومت پر لازم ہوگا کہ ساٹھ روز میں وہ آسامی پُر کرے۔

حکومت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے چیئرپرسن اور ہر رکن کے لیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجےگی اور کمیٹی ناموں کو حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے صدر کو بھیجے گی۔اگر حکومت اور اپوزیشن لیڈر میں تین ناموں پر اتفاق نہ ہو تو فریقین علیحدہ علیحدہ تین تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیج سکیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی بنائے گا اور بارہ رکنی اس کمیٹی میں حکومت اور حزب مخالف کے اراکین برابر کی بنیاد پر نامزد کیے جائیں گے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا اجلاس ایک تہائی اراکین کے کورم سے منعقد کیا جاسکےگا۔ حاضر اراکین کے ووٹ کسی معاملے پر برابری کی صورت میں چیئرپرسن ووٹ دے گا۔ کمیشن ایک مشاورتی کمیٹی قائم کرے گا جس میں انسانی حقوق کے ارکان، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، بار ایسو سی ایشنز کے اراکین، پریس کلب، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اراکین بھی شامل ہوں گے۔

سکیورٹی سے متعلق یہ کمیشن وفاقی حکومت سے ساٹھ روز کے اندر رپورٹ طلب کرے گا اور اگر مقررہ مدت میں رپورٹ وصول نہ ہو تو کمیشن اپنے طور پر شکایت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

کمیشن کو دیوانی عدالت کی طرح کسی دستاویز طلب کرنے، گواہ کو سمن کرنا، حاضری کو یقینی بنانا اور حلفاً سوال جواب کرنے، کسی سرکاری ادارے سے ریکارڈ یا اس کی نقل طلب کرنے اور معائنہ کرنے کا اختیار ہوگا۔

کمیشن کسی معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی ادارے کی خدمات حاصل کرنے کےلیے متعلقہ حکومت سے رابطہ کرسکتا ہے۔ کمیشن اپنی رپورٹ ہر مالی سال کے آخر میں تیار کرے گا جو کہ حکومت پارلیمان میں پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

کمیشن کے چیئرپرسن یا کسی رکن کے خلاف کسی سرانجام دیے گئے کام پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ کمیشن کا ہر رکن اور ان کے مجاز کردہ ہر افسر سرکاری ملازم تصور ہوں گے۔