’میمو سے صدر، وزیراعظم کا تعلق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وفاق نے میمو سے متعلق درخواستوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے

وفاق نے متنازع میمو سے متعلق بیانِ حلفی پر اپنا جواب الجواب عدالت میں جمع کروادیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس معاملے سے صدر اور وزیر اعظم یا کسی بھی وفاقی حکومت کے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بیان میں وفاق نے اپنے پُرانے موقف کو دہرایا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمانی فورم پر اس معاملے کی چھان بین کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں اور قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی اس میمو کی تحقیقات کر رہی ہے۔

وفاق نے اپنے جواب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے کے جوابات کا نہ صرف شق وار جواب نہیں دیا بلکہ اس معاملے کو وفاق نے چھیڑا ہی نہیں ہے۔

وفاق کا کہنا ہے کہ چونکہ پارلیمانی فورم میں اس میمو سے متعلق تحقیقات ہورہی ہیں اور آئین کے مطابق پارلیمان کو بالادستی حاصل ہے اس لیے کسی اور فورم پر اس کی تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔

جواب میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اس میمو سے متعلق دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت دیکر مسترد کردیا جائے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے بھی اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروادیا ہے جس میں اس متنازع میمو کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں اُنہوں نے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے زیر استعمال موبائیل اور کمپوٹرز کی لیبارٹری کروانے کے بارے میں کہا گیاہے اس کے علاوہ منصور اعجاز کو سپریم کورٹ میں طلب کرنے کے بارے میں بھی استدعا کی گئی ہے۔

احمد شجاع پاشا نے اپنے بیان میں ایک غیر ملکی اخبار میں چھپنے والی مضمون کی تردید کی جس میں لکھا گیا تھا کہ اُنہوں نے (احمد شجاع پاشا) نے صدر آصف علی زرداری کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے لیے عرب ملکوں کے سربراہوں کی مدد طلب کی تھی۔

اسی بارے میں