’خواتین کا تحفظ، قانونی مسودوں پر دستخط‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے خواتین کے حقوق اور اُن پر تشدد کے متعلق دو قانونی مسودوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

پاکستانی پارلیمان ان مسودوں کی منظوری دے چکی ہے اور صدارتی دستخط کے بعد یہ قانون کا حصہ بن گئے ہیں۔

ایک بِل کے تحت خواتین کے خلاف، بدل الصلح، ونی اور سوارہ جیسی استحصالی روایات، انہیں وراثت سے محروم کرنے، زبردستی کی شادی یا پھر قرآن سے اُن کی شادی پر، سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

دوسرے بِل میں خواتین پر تیزاب سے حملے کی صورت میں چودہ سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ’عورتوں کے خلاف جرائم‘ کے عنوان سے ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی دھوکہ دہی یا غیر قانونی ذرائع سے کسی عورت کو وراثت کی تقسیم کے موقع پر منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی وراثت سے محروم کرے اس کو کسی ایک نوعیت کی زیادہ سے زیادہ دس سال اور کم از کم پانچ سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

اس قانون کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ ’جو کوئی بھی دیوانی جھگڑے یا فوجداری معاملے کے تصفیے کی بابت بدلِ صلح ونی یا سوارہ یا کسی نام کے تحت دیگر کسی رسم یا رواج کے طور پر کسی عورت کی شادی کرتا ہے یا دیگر کسی صورت میں اس کو شادی کرنے پر مجبور کرتا ہے، اس کو کسی ایک نوعیت کی زیادہ سے زیادہ سات سال اور کم از کم تین سال قید کی سزا ہوگی اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں