’آئی جی پولیس، ڈی جی رینجرز کو نوٹس‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب لانڈھی میں ان سے ملاقات کے لیے آنے والے محفوظ نہیں ہیں تو انہیں کیسے تحفظ فراہم کیا جائے گا: آفاق احمد

سندھ ہائی کورٹ نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو سکیوررٹی فراہم نہ کرنے پر آئی جی سندھ پولیس اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم اور جسٹس احمد علی شیخ کے روبرو جمعے کو آفاق احمد کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

آفاق احمد نے عدالت میں پیش ہو کر سکیورٹی کے لیے رینجرز کی تعیناتی کی گذارش کی جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ جب آپ کے ساتھ پولیس موجود ہے تو پھر رینجرز کی کیا ضرورت ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آفاق احمد نے عدالت کو بتایا کہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے سابق ایم این اے عزیز احمد کو واپسی پر اغوا کر لیا گیا اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی بعد میں انہوں نے رینجرز حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت پر عزیز احمد کو رہائی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب لانڈھی میں ان سے ملاقات کے لیے آنے والے محفوظ نہیں ہیں تو انہیں کیسے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ اور آئی جی سندھ پولیس کو نوٹس جاری کرنے کا حکم جاری کیا اور سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ آفاق احمد نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اور رینجرز کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر صرف پولیس کو تعینات کیا گیا ہے لحاظہ رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

اسی بارے میں