’نشانہ بننے والی چوکیوں کی نشاندہی نہیں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے محکمہ دفاع نے چھبیس نومبر کو نیٹو افواج کی جانب سے پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے اس حملے کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ امریکی فضائیہ کے بریگیڈئر جنرل سٹیفن کلارک نے آپریشن کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد نیٹو کے ایک سو بیس سپاہیوں کو پاکستان کی سرحد کے قریب واقعہ گاؤں نوا میں تعینات کرنا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہسرحد کے نزدیک ہونے کی وجہ سے آپریشن کو کابل میں بین الاقوامی جوائنٹ کمانڈر (آئی جے سی) کی منظوری کے لیے بھیجا گیا۔

آئی جے سی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس نے پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اس منصوبے میں کچھ تبدیلیاں کیں۔ مثال کے طور پر ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کی جگہ کو سرحد سے دور کر دیا گیا۔ جنرل کرٹس نے اس علاقے میں پاکستانی چیک پوسٹوں کی بھی نشاندہی کے احکامات دیے۔

دو پاکستانی سرحدی چوکیوں کی نشاندہی کی گئی تھی تاہم یہ وہ چوکیاں نہیں تھی جہاں پر بعد میں نیٹو حملہ ہوا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ جن چوکیوں کی بات کی جا رہی ہے ان کی نشاندہی ناوا کوآرڈینیشن سینٹر کے چارٹ یا نقشے میں نہیں کی گئی تھی۔

آپریشن کی رات امریکی فوج نوا گاؤں کی جانب بڑھیں جہاں رات گیارہ بج کر نو منٹ پر ان پر براہِ راست بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔

بریگیڈئر جنرل سٹیفن کلارک کے مطابق’اس وقت امریکی فوج کی سپورٹ کے لیے دو ایف پندرہ سٹرائیک ایگل جنگی طیارے، ایک اے سی ون تھرٹی گن شپ ہیلی کاپٹر، ایک ایم سی بارہ جاسوسی طیارہ، دو اپاچی ہیلی کاپٹرز تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بھاری اسلحے اور مارٹر فائر سے حملے ایک پہاڑی کی چوٹی سے ہو رہے تھے‘۔

ٹیکٹیکل کمانڈر نے اے سی ون تھرٹی اور ایف پندرہ طیاروں کو اس علاقے پر نیچی پرواز اور فلیئر چھوڑنے کا کہا۔ جہازوں کی نیچی پروازوں اور فلیئر چھوڑے جانے سے سب کے شک دور ہو جانے چاہیئیں کہ یہ بین الاقوامی فوج ہے۔

مشین گن اور مارٹر فائر جاری رہی جس کے دوران ٹیکٹیکل کمانڈر کو یہ پیغام ملا کہ اس علاقے میں کوئی پاکستانی فوجی چوکی نہیں ہے۔ یہاں سے رابطوں میں غلطیوں کا آغاز ہوا۔

یہ علاقہ مشرقی ریجنل کمانڈ کے تحت آتا ہے جنہوں نے کہا کہ وہ سرحدی رابطہ مراکز سے معلوم کرا رہے ہیں لیکن اس علاقے میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی اطلاع نہیں ہے۔

یہ پیغام علاقائی یا ریجنل کمانڈ کے ماتحت ہیڈ کوارٹر کو ملا کہ اس علاقے میں کوئی پاکستانی فوجی نہیں ہے جس نے یہ پیغام گراؤنڈ فورس کے کمانڈر کو پہنچایا۔

اس کے بعد ہیڈ کوارٹر نے ریجنل کمانڈ کے ساتھ رابطے شروع کردیے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ حملے کی زد میں آئی ہوئی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کر لی ہے کہ اس علاقے میں پاکستانی فوجی موجود نہیں ہیں۔

یہ وہ پہلا موقع تھا جہاں رابطوں میں غلطی ہوئی اور اگر اس کو اسی وقت دور کردیا جاتا تو اس واقعے کو پیش آنے سے روکا جا سکتا تھا۔

حملے کی زد میں آئے فوجی ٹیم کے کمانڈر نے گن شپ ہیلی کاپٹر کو اس ٹھکانے پر فائرنگ کا حکم دیا جہاں سے فائرنگ ہو رہی تھی۔ یہ حملہ تقریباً چھ منٹ جاری رہا۔ کچھ ہی منٹوں بعد گن شپ ہیلی کاپٹروں نے اسی پوزیشن پر دوبارہ فائر کیا جہاں سے امریکی فوج پر فائر کیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی تقریباً بارہ بجے مکمل ہوئی۔

اس کارروائی کے دوران پاکستان کے رابطہ افسران نے ریجنل کمانڈ سے رابطہ کیا کہ امریکی فوج پاکستانی فوج کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اس رابطے کے باعث مزید الجھن پھیل گی کیونکہ اس جگہ کی صحیح پوزیشن معلوم نہیں ہو رہی تھی۔ جب حملے کی زد میں فوجی کمانڈر نے جنرل سے پوزیشن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوزیشن دینے کے بجائے کہا ’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کیونکہ آپ لوگ ان پر فائرنگ کر رہے ہیں۔‘

جس جگہ یہ کارروائی جاری تھی اس کی صحیح پوزیشن سرحدی رابطہ مراکز کے پاس تھی۔ وہ پوزیشن کمپیوٹر میں ڈالی گئی لیکن کمپیوٹر میں جو نقشہ تھا وہ صحیح نہیں تھا۔ کمپیوٹر نے جو دکھایا اس کے مطابق یہ کارروائی چودہ کلومیٹر دور علاقے میں ہو رہی تھی۔ یہ ہماری دوسری ناکامی تھی۔

اس کے بعد امریکی فوج نے ایک اور کارروائی رات بارہ بج کر چالیس منٹ پر شروع کی جو تقریباً ایک بجے تک جاری رہی۔ یہ اس جگہ سے شمال کی جانب تھی جہاں پہلے کارروائی کی گئی۔ اس حملے میں مشین گن کو نشانہ بنایا گیا۔

بریگیڈئر جنرل سٹیفن کلارک کےمطابق اس وقت تک کمانڈ سینٹر تک اس بات کی تصدیق اور وضاحت پہنچ گئی تھی کہ اس علاقے میں پاکستانی فوج کی موجودگی تھی اور وہاں سرحدی چوکیاں تھیں۔ یہ اطلاع فوری طور پر اس علاقے میں موجود امریکی فوج کو دی گئی جنہوں نے فوری فائر بندی کی اور اس کے بعد کوئی فائر نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں