پولیو قطرے پلانے سے والدین کا انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اس سال پولیو کے ایک سو پچھترمریض سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد ایک سو چوبیس تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد حکام کے مطابق ہر ضلع کی سطح پر انتظامیہ ان والدین کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں اس سال ایک سو پچھتر افراد میں پولیو وائرس پائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اس سال سب سے زیادہ پولیو کے مریض سامنے آئے ہیں جن کی تعداد حکام کے مطابق ستر ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں اس سال انہتر بچوں میں پولیو کے وائرس پائے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ادارے ای پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر جانباز آفریدی نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ اس سال کوئی چودہ سے بیس ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان والدین کو قائل کرنے کے لیے علماء اور مقامی انتظامیہ کے توسط سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں میں اس بارے میں آگہی نہیں ہے اور انہوں نے مختلف مفروضے بنا رکھے ہیں جو درست نہیں ہیں۔

ڈاکٹر جانباز آفریدی کے مطابق بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ پشاور میں چار افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حکام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں اگرچہ بیشتر علاقوں سے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں تاہم پشاور، مردان، لکی مروت اور بنوں ایسے اضلاع ہیں جہاں والدین کم علمی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں اس سال پولیو کے ایک سو پچھترمریض سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد ایک سو چوبیس تھی۔

خیبر پختونخواہ، فاٹا اور بلوچستان میں اس سال ایک سو انتالیس پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے مطابق پنجاب میں پانچ، سندھ میں تیس، گلگت بلتستان میں ایک جبکہ اسلام آباد میں پولیو کا وائرس کسی بھی بچے میں نہیں پایا گیا۔

اگر پاکستان کے پڑوسی ممالک میں پولیو کے خلاف جاری مہم کا جائزہ لیا جائے تو بھارت میں اس سال صرف ایک مریض میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ افغانستان میں تریسٹھ افراد میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے۔

اسی بارے میں