جاوید ہاشمی: سٹوڈنٹ یونین سے تحریکِ انصاف تک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں جاوید ہاشمی تین مختلف حلقوں سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے

کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بھی مستقل حریف یا حلیف نہیں ہوتا اور ایسا ہی معاملہ ملتان کے دو مخدوموں یعنی جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کا ہے ۔

لگ بھگ ایک دہائی تک ایک دوسرے کے مدِمقابل انتخاب لڑنے والے اب دونوں سیاست دان تحریکِ انصاف میں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔

جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار آٹھ تک چار مرتبہ ملتان کے ایک ہی انتخابی حلقے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے اپنی اپنی جماعت کی طرف سے امیدوار تھے۔

جاوید ہاشمی مسلم لیگ نون کے سینیئر نائب صدر تھے اور سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں جاوید ہاشمی تین مختلف حلقوں سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔

تجزیہ نگار جاوید ہاشمی کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کو مسلم لیگ نون کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں اور خود مسلم لیگ نون کے رکنِ اسمبلی ایاز امیر کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کا پارٹی چھوڑنا ان کی جماعت کے لیے نفسیاتی دھچکا ہے۔

جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان سے تعلق رکھنے والے مخدوم جاوید ہاشمی ایک باہمت، بہادر اور بااصول سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں اور انہوں نے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ نون کی باگ ڈور سنبھالی۔

جاوید ہاشمی نے سٹوڈنٹس یونین سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔

انہوں نے بنگلہ دیش نامنظور تحریک سے شہرت حاصل کی اور سنہ انیس سو ستتر میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف چلنے والی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں پیش پیش رہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس وقت کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر بھی رہے تاہم بعدازاں وہ وزیر بننے کے اقدام پر افسوس کا اظہار بھی کرتے رہے۔

مسلم لیگ نون کے سابق رہنما نے کچھ عرصہ ائیر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان کی جماعت تحریکِ استقلال میں گزارا اور بعد میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ سنہ انیس سو ستتر میں جاوید ہاشمی لاہور سے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار بنے تاہم قومی اتحاد نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔

جاوید ہاشمی نے انتخابی سیاست کا آغاز سنہ انیس سو پچاسی میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لے کرکیا اور رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

سنہ دو ہزار میں جب مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب میں چلے گئے تو اس وقت جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ نون کا قائم مقام صدر مقرر کیا گیا۔

اس دوران جاوید ہاشمی کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں لاہور کی احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے ایک ریفرنس دائر کیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی اسیری کے دوران سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ لیا تاہم وہ ملتان میں اپنے روایتی حریف شاہ محمود قریشی سے ہار گئے لیکن لاہور کے حلقے سے وہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔

جاوید ہاشمی انیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرنے کے نتیجے میں گرفتار ہوئے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فوج کے مونوگرام والے لیٹر ہیڈ پر فوجی حکمرانوں کے خلاف ایک خط موصول ہوا ہے۔

چھبیس اگست سنہ دو ہزار چار کو حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے جاوید ہاشمی کو سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کے مقابلے میں وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کیا۔

جاوید ہاشمی اپنے خلاف بغاوت کے ایک مقدمہ میں اگست سنہ دو ہزار سات کو ضمانت پر رہا ہوئے اور ان کا لاہور میں استقبال کیا تاہم اس موقعے پر مسلم لیگ نون کےسرکردہ رہنما نظر نہیں آئے۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون کی قیادت اور جاوید ہاشمی میں دوریاں پیدا ہوئیں اور جاوید ہاشمی نے اپنی جماعت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

جاوید ہاشمی پر جولائی سنہ دو ہزار دس میں فالج کا حملہ ہوا تاہم صحتیاب ہونے کے کچھ عرصے بعد انہوں نے دوبارہ سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی قید کے دوران ’ہاں میں باغی ہوں‘ اور ’تختہ دار کے سائے تلے‘ کے عنوان سے دو کتابیں بھی لکھیں۔

اسی بارے میں