بینظیر قتل کیس، جلد سماعت کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل چوہدری ذوالفقار کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اگر اس مقدمے کی پیروی روزانہ کی بنیاد پر نہ کی تو وہ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے سرفراز شاہ کے مقدمے کا فیصلہ ایک ماہ میں اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا فیصلہ چھ ماہ میں ہوسکتا ہے تو بینظیر بھٹو کے قتل کا فیصلہ جلد کیوں نہیں ہوسکتا حالانکہ وہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہی ہیں۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو جو راولپنڈی میں ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ اس واقعہ کی تفتیش ابھی تک مختلف مراحل طے کر رہی ہے۔ پنجاب پولیس کے بعد اس مقدمے کی تفتیش وزارت داخلہ کے ماتحت ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارہ کر رہا ہے۔

اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اُن کی جائیداد کی ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری ہو چکے ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ اور پھر اقوام متحدہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کروائی گئیں اور ان تحقیات سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن متفق نہیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی کارکن پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت سے بینظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہے تو اُس کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کردی جاتی ہے۔

پارٹی کے کارکن بینظیر بھٹو کی سیکورٹی کے انچارج اور موجودہ وزیر داخلہ رحمان ملک اور بابر اعوان کا جائے حادثہ سے نکل جانے پر بھی شکوک شہبات کا اظہار کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی موموجودہ قیادت کی طرف سے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کو اقتدار میں شامل کرنے پر بھی پارٹی کے کارکنوں کو شدید تحفظات ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد قاف لیگ کو قاتل لیگ بھی کہا ہے۔

اسی بارے میں