اورکزئی اور کرم میں آپریشن، آٹھ شدت پسند ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اورکزئی اور کرم ایجنسی میں دو سال سے غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی اور کرُم ایجنسی میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے آٹھ شدت پسند ہلاک جبکہ ان کے پانچ ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

ایک اعلٰی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صُبح اورکزئی اور کُرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں واقع شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا ہے اہلکار کے مطابق اس کارروائی میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے خدیزئی اورماموزئی جبکہ وسطی کُرم ایجنسی میں مسوزئی کے پہاڑی علاقے بمباری کا نشانہ بنے ہیں اور ان علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اورکزئی کے علاقے ڈبوری اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کی ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اہلکار کے مطابق کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے دونوں قبائلی علاقوں میں توپخانے کا استعمال بھی کیا۔

خیال رہے کہ اورکزئی اور کُرم ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں سے سکیورٹی فورسز کا غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے اور روزانہ کسی نہ کسی مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے ہنگو، کوہاٹ اور پشاور میں پناہ لی ہے۔

اسی بارے میں