جوہری اور روایتی اسلحے پر پاک بھارت مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان وفد کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری منئور سعید بھٹی کر رہے ہیں

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ چار سال بعد ماہرین کی سطح پر جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں پاکستان نے کئی ایک نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

عبدالباسط نے کہا کہ غیر ارادی طور پر یا بھولے سے سرحد عبور کر کےبھٹک جانے والے افراد کی واپسی، پاک بھارت سرحد پر آرٹلری گنز یعنی توپے خانے کو پیچھے ہٹانے اور فوجی مشقوں کے بارے میں قبل ازوقت ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے حوالے سے پاکستان نے کئی ایک نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے دورمیان جوہری اور روایتی اسلحے پر پیر کو دو روزہ مذاکرات شروع ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے دفترِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری منئور سیعد خان اور بھارت کے دس رکنی وفد کی سربراہی یشونت کے سنہا کر رہے ہیں۔

عبدالباسط نے بی بی سی کے نمائندے ذوالفقار علی سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے دن روایتی اسلحے کے حوالے سے اعتماد سازی کے اقدامات پر بات ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ابتدا میں تو دونوں ملکوں کے درمیان موجود مختلف معاہدوں پر غور کیا گیا جن میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی یا فائر بندی، دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان ہاٹ لائن، کوسٹ گارڈ کے درمیان ہاٹ لائن اور فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سنہ انیس سو اکانوے کامعاہدہ شامل ہے۔

پاکستان کی طرف دی جانے والی تجاویز میں ایک تجویز سمندری حدود میں کسی ناخشگوار واقع کا تدارک کرنے کے متعلق ہے۔

عبدالباسط نے کہا کہ دوسرے دن جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات سے اعتماد سازی کے اقدامات کو مستحکم کرنے میں بہت مدد ملے گی اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہو گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور پوری دنیا ان سے توقع کرتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ انھوں نے کہا ان مذاکرات کا مقصد حادثاتی نوعیت کے واقعات کےامکان کو کم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی حادثاتی صورت حال میں یہ اقدامات حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے میں بڑی حد تک مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ممبئی حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان معطل ہونے والےدو طرفہ مذاکرات کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس موضوع پر بھی بات چیت ہورہی ہے۔

روایتی اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان آخری مرتبہ اس سطح پر بات چیت اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں نئی دہلی میں ہوئی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق جون سنہ دو ہزار گیارہ میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق ماہرین کی سطح پر بات چیت کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت ہر سال یکم جنوری کو اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

یہ تبادلہ سنہ انیس سو اٹھاسی میں دونوں ملکوں کے درمیاں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے تحت کیا جاتا ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت اور پاکستان ان حساس اہداف پر حملہ نہ کریں۔