’اصل درخواست گزار خفیہ ادارے کے سربراہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالتوں کو ان معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا کہ مخص مفروضوں پر ملکی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں: عاصمہ جہانگیر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ متنازع میمو میں اصل درخواست گزار فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹرسروسز انٹیلیجنس کے سربراہ ہیں۔

منگل کو سپریم کورٹ میں متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے کس طرح ایک معاملے کو راتوں رات مفادِ عامہ کا معاملہ بنا دیتے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انہوں نے کہا کہ جن افراد نے اس میمو سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں کیا وہ واقعی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان کے کوئی دیگرعزائم ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ میرے موکل حسین حقانی کو اس متنازع میمو کی تحقیقات سے کوئی ڈر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ سے شروع ہوں اور اس دوران انہیں (عاصمہ ) کو یہ محسوس ہو کہ اس تحقیقات میں انصاف نہیں کیا گیا تو پھرسپریم کورٹ کے بعد کوئی عدالت رہ نہیں جاتی جہاں پر دادرسی کے لیے درخواست دی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو ان معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا کہ مخص مفروضوں پر ملکی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی شہری منصور اعجاز نے ایک غیر ملکی چینل کو بتایا کہ حسین حقانی اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا علم دو مئی کے واقعہ کے بعد ہوا جب ان کی ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات ہوئی تھی۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اس میمو سے متعلق درخواستوں میں اطلاعات تک رسائی کے بارے میں کہا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے موکل کا بھی حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ آئی ایس آئی کس کے ماتحت ہے اور اس کا مینڈیٹ کیا ہے؟

اسی بارے میں