’جسٹس افتخار سے پوچھتا ہوں کہ بی بی کیس کا کیا بنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جسلے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی

پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر جلسہء عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ہم تاریخ بنانا چاہتے ہیں ہیڈ لائن نہیں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نےچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ بی بی کے کیس کا کیا بنا؟

’میں بھی پوچھتا ہوں چوہدری افتخار جج صاحب سے کہ بی بی کے کیس کا کیا ہوا؟‘

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ’عدالتیں میرے ماتحت نہیں ہیں۔ کاش ایسا ہوتا کہ ہوتیں، مگر ایسا نہیں ہے۔‘

صدر نے چیف جسٹس سے پوچھا ’آپ کو دوسرے کیس بڑی جلدی نظر آ جاتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا جو کیس میں نے آپ کے پاس بھیجا ہوا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا۔‘

بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیاں نوروز خان سے شروع ہوئیں ان کی محرومیاں آج کی نہیں ہیں۔ انہوں نے بلوچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی لڑائی ہم سے آ کر سیکھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم بلوچوں کی خدمت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن یہ سب وفاق میں رہ کر ہوگا۔

انہوں نے بلوچوں کو مخاطب کرکے کہا کہ انہیں جیلوں سے رہائی لڑنے کے لیے نہیں دی گئی۔ انہوں نے اپنی مثال دے کر کہا کہ ہم نے بارہ سال جیل میں کاٹے جس کا مقصد اپنا مطالبہ منوانا تھا۔‘

انہوں نے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواہ رکھے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پشتونوں کو ان کی پہچان دی جو اب ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔‘

صدر آصف زرادی نے مزید کہا کہ ’جنوبی پنجاب کے لوگ تحتِ لاہور سے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔‘

بھارت کو ایم ایف این سٹیٹس دیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر زرداری نے پاکستانی فوج کو بڑا واضع پیغام دیا کہ ’ہم سب کے دوست ہیں، ہمارا دشمن کوئی نہیں ہے۔ ہم سب کے ساتھ تجارت چاہتے ہیں۔ ہمیں کوئی یہ نہ بتائے کے کس کے ساتھ تجارت کی جائے اور کس کے ساتھ نہیں۔‘

صدر ذرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم جس طرف بھی مڑ جائیں گے ہم اس خطے کو بنا دیں گے لیکن وہاں تک جانے کے لیے ہمیں روکا جا رہا ہے۔‘

صدر زرداری کا کہنا تھا ’میرا دنیا سے یہی کہنا ہے کہ ہمیں یہ حق دیا جائے کہ ہم جس کے ساتھ چاہیں ملیں۔ جس کے ساتھ چاہیں تجارت کریں۔ ہم جس سے چاہیں گیس لیں۔ اس لیے آپ ہمیں سنھبال نہیں سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر آصف علی زرداری نےگڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کےمزار پر بھی حاضری دی

انہوں نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ کی اپنی معیشت مشکل میں ہے تو اس صورت میں ہم کیا کریں۔ ہم نے بھی جینا ہے۔ میں اپنے بچوں کی فکر کروں یا آپ کے نخروں کی فکر کروں۔‘

برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پارٹی کے اہم رہنما مخدوم امین فہیم، شیری رحمان، وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی، وزیرِ داخلہ رحمان ملک، وزیرِ اعلی سندھ قائم علی شاہ، اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید گڑھی خدا بحش پہنچے۔

برسی میں شرکت کے لیے پنجاب، بلوچستان، سندھ،گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے قافلے لاڑکانہ پہنچے۔ کراچی سے پیدل اور سائیکل سوار کارکن بھی آئے اورگڑھی خدا بخش جانے والی سڑکیں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں