بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی:لائیو اپ ڈیٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقد ہونے والے جلسے کی تیاریوں اور جلسے کا احوال، بی بی سی اردو کے نمائندوں کی زبانی۔

سہ پہر چار بج کے چالیس منٹ، محمد حنیف

صدر کی تقریر کے بعد اب پیلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن خطاب کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کی پر جوش تقریر سے لگتا ہے کہ اُن کی صحت ٹھیک ہے۔

سہ پہر چار بج کے پندرہ منٹ، محمد حنیف

صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاستدان ٹاک شوز کو اہمیت نہ دیں کیونکہ وہ آپ کی بے عزتی کرتے ہیں۔ صدر نے عمران خان کی سونامی کو ذونامی کہہ کر پکارا۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالتیں میرے ماتحت نہیں ہیں، کاش ہوتیں۔‘ انہوں نے چیف جسٹس سے سوال کیا کہ وہ بینظیر بھٹو قتل کیس کیوں نہیں چلاتے؟

سہ پہر تین بج کر پچپن، محمد حنیف

صدر آصف علی زرداری جسلہ گاہ پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے سٹیج پر آ کر بھنڈال میں موجود لوگوں کے نعروں کا جواب دیا۔

سہ پہر تین بج کر چالیس، محمد حنیف

پیپلز پارٹی کی اہم رہنما مخدوم امین فہیم، شیری رحمان، اور وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی گڑھی خدا بحش پہچن گئے ہیں۔

پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اب تک ہونے والی زیادہ تر تقاریر کا موضوع بھٹو خاندان کی قربانیاں رہیں۔

سہ پہر تین بج کر پندرہ منٹ، محمد حنیف

جلسے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اورصدر زرداری تھوڑی ہی دیر میں جلسہ گاہ پہنچنے والے ہیں۔

گلگت بلتستان کے وزیراعلٰی اس وقت جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید نے اپنی تقریر میں بلاول زرداری کو کشمیرکا رہنما قرار دیا۔

دوپہر، دو بج کر چالیس منٹ، ریاض سہیل

چاروں صوبوں سے کارکن پنڈال میں یہاں موجود ہیں جن میں سے کچھ حکومت سے خفا بھی ہیں۔ بدین سے آئے ہوئے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کارکنوں کو سامنے لانا چاہیے نہ کہ وڈیروں کو۔

ایک بزرگ کارکن نے کہا کہ بھٹو کا خواب پورا نہ ہو سکا، مکان اور کپڑا تو کیا روٹی تک دستیاب نہیں لیکن ووٹ وہ پھر بھی پی پی پی کو ہی دیں گے۔

ایک کارکن نے کہا کہ مشکوک لوگ حکومت میں شامل ہیں اس لیے بینظیر کے قاتل گرفتار نہیں ہو سکے۔

لوگوں کی بڑی تعداد مزار میں داخل ہو کر بینظیر کی قبر پر حاضری دے رہی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد مقامی آبادی کی بھی ہے۔

دوپہر دو بج کر بیس منٹ، محمد حنیف

اس وقت جلسہ بظاہر مشاعرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ شاعروں میں کافی جوش و خروش ہے لیکن عوام زیادہ سخن شناس نہیں اور وہ مفت میڈیکل کیمپ سے دوائی لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

دوپہر ایک بج پر چھتیس منٹ، محمد حنیف

سندھ کے وزیراعلٰی قائم علی شاہ جلسہ گاہ میں آ گئے ہیں لیکن پنڈال میں موجود افراد نے خاموشی اور سردمہری سے ان کا استقبال کیا۔

دوپہر ایک بج کر بیس منٹ

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی ہے تاہم وہ آج منعقد ہونے والے جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔

مزار پر حاضری کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری حکومت کے خلاف ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر کی ہلاکت صرف قومی نہیں بلکہ ایک عالمی المیہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر کے قتل کی تحقیقات تقریباً مکمل ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو وزیرِ داخلہ اس کے کچھ حصے عوام کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

دوپہر ایک بجے، محمد حنیف

جلسہ گاہ میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کی تصاویر والے بہت سے پوسٹر بھی دکھائی دے رہے ہیں جس میں وہ بلاول بھٹو سے مشابہہ دکھائی دینے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک جیالا دیوار پر ذوالفقار مرزا کی برطرفی کے مطالبے پر مشتمل نعرہ لکھنے اور دو اور جیالے اس نعرے کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

دوپہر بارہ بج کر پچاس منٹ، محمد حنیف

چار سال میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی بینظیر کی برسی پر عوامی جلسہ کر رہی ہے۔اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

جلسہ گاہ میں داخلے سے قبل چار مقامات پر تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

بینظیر کے مزار کے ساتھ بہت بڑے کمپاؤنڈ میں جلسے سے زیادہ میلے یا عرس کا ماحول ہے۔

دوپہر بارہ بج کر تیس منٹ، ریاض سہیل

چار دیواری کے اندر وسیع علاقے میں دریاں بچھائی گئی ہیں اور سٹیج سے بینظیر بھٹو کی یاد میں نغمے، نوحے اور نظمیں نشر کیے جا رہے ہیں۔

لوگ ٹولیوں کی صورت میں نعرے لگاتے ہوئے پنڈال میں داخل ہو رہے ہیں۔

لوگوں نے پیپلز پارٹی کے پرچم کے رنگ والے کپڑے اور خواتین نے سرخ، سبز اور سیاہ چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں۔