’میمو کاغذ کا ایک بےوقعت ٹکڑا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارلیمانی کمیمٹی کی تحقیقات عدالتی کارروائی پر قدغن نہیں لگاتی:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے مقدمے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کہا ہے کہ وفاق کے نزدیک میمو صرف ایک کاغذ کا بے وقعت ٹکڑا ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

منگل کو سماعت کے موقع پر انہوں نے عدالت نے دوبارہ درخواست کی وہ اس سلسلے میں دائر درخواستیں مسترد کر دے۔

اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو معاملے کی سماعت کا اختیار نہیں اور چونکہ معاملہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے اس لیے اس کی سفارشات کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات عدالتی کارروائی کو نہیں روک سکتیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیمٹی کی تحقیقات عدالتی کارروائی پر قدغن نہیں لگاتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاق کو اپنے جواب میں یہ موقف اپنانا چاہیے تھا کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر یہ میمو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو پھر اس پر ملک اور فوج کی اعلٰی قیادت کے اتنے اجلاس کیوں ہوئے اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی سے استعفی کیوں لیا گیا اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو وزیراعظم نے اس کی تحقیقات کا حکم کیوں دیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس متنازع میمو سے متعلق اشاروں کنایوں میں باتیں کہیں گئی ہیں اور اس میمو کے خالق منصور اعجاز کا کردار بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس میاں شاکراللہ جان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوج کا سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ملکی سلامتی سے متعلق ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میمو مفاد عامہ کا معاملہ نہیں ہے جبکہ چند مفاد پرستوں نے میمو کو مفاد عامہ کا معاملہ قرار دیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کا ٹرائل ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ اُنہیں سزا دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل کو سُنے بغیر سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو فیصلہ دے دیا جس سے حسین حقانی کے حقوق صلب ہوئے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اُن کے موکل اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ محض عدلیہ حب الوطنی کا دعوی نہیں کر سکتی دیگر ادارے بھی محب وطن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے دیگر ادارے موجود ہیں اس لیے عدلیہ صرف آئین اور قانون کی پاسداری کرے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو کسی بھی مقدمے کی تفتیش کا اختیار نہیں ہے اور پھر اس ادارے کے سربراہ منصور اعجاز سے ملاقات کرنے لندن کیوں گئے۔

اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس میمو سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے۔

اُدھر وزیر اعظم نے بابر اعوان اور پیپلز پارٹی کے دیگر ارکان کی طرف سے یک دسمبر کو کی جانے والی پریس کانفرنس کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے۔ یہ جواب اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت میں جمع کروایا۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق نہیں اُڑایا گیا اور پارٹی کا وہی موقف ہے جس کی قانون اور آئین اجازت دیتا ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت اٹھائیس دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں