بینظیر قتل: ’ملبہ سپریم کورٹ پر ڈالنا نامناسب ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر ان کے شوہر صدر آصف علی زرداری کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے بارے میں بتانے کے بجائے مقدمہ کا ملبہ سپریم کورٹ پر ڈال دیا ہے جو مناسب نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے صدر آصف علی زرداری کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنے سوالات کا جواب چاہتے ہیں لیکن انہوں نے عوامی سوالات کا جواب دینے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈالنے کی روایت کو برقرار رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج عوام یہ چاہتے تھے کہ آصف علی زرداری اپنی اہلیہ بینظر بھٹو کے قاتلوں کے بارے میں بتائیں گے لیکن انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ چیف جسٹس پاکستان پر ڈال دیا۔

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ صدر زرداری کی طرف سے یہ کہنا کہ جنوبی پنجاب کے لوگ تخت لاہور سے اپنا حق مانگ رہے مناسب نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے آصف علی زرداری وفاق کے نمائندے ہیں اور ان کو ایسا بیان زیب نہیں دیتا۔

مسلم لیگ نون کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا اپنی اہلیہ کی برسی پر ان کے قاتلوں کے بارے میں نہ بتانا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود نے کہا کہ چار سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت ابھی تک بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمہ کے ملزموں کو گرفتار نہیں کرسکی اور صدر آصف علی زرداری کی طرف سے مقدمہ کی سماعت مکمل نہ ہونے کا ملبہ سپریم کورٹ پر ڈالنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اب تک بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کرسکی۔ شفقت محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ کو متنازع نہیں بنانا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو کے قتل کے مقدمہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کو چیلنج کرنا انتہائی نامناسب بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری جرات مندانہ تقریر سے کسی حد تک اپنی جماعت کے کارکن کے لیے اطمینان کا سبب بن سکتے ہیں لیکن وہ ایسی تقریر سے عوام کو مطمئین نہیں کرسکتے۔

جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کو اپنی رخصتی نزدیک نظر آرہی ہے اور انتخابی تیاری کے لیے یہ تقریر کی ہے۔

ان کے بقول تقریر میں سپریم کورٹ کے لیے جو توہین آمیز رویہ اختیار کیاگیا ہے اس کی وجہ مبینہ میمو کیس ہے اور اسی وجہ سے آصف علی زرداری پریشان ہیں۔

اسی بارے میں