’متنازع میمو ملکی مفاد میں عدالت لیکر گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ انہوں نے متنازعہ میمو سکینڈل کے سلسلے میں کسی ذاتی سیاست یا فائدے کی خاطر نہیں بلکہ ملک و قوم کے مفاد میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹھایا ہے۔

میاں نوازشریف بدھ کو پشاور میں مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ایک نئے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کا آغاز کر رہے ہیں اور اس میں پشتون ان کا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پشتونوں کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے، قبائلی علاقے تباہ ہوئے ہیں، پینتیس ہزار لوگ ہلاک اور ساٹھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے پشتونوں کو ان کے اس صبر و ہمت پر سلام پیش کیا۔

مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے ملکی پالیسوں کو تبدیل کرنے کی بجائے مشرف کی پالیسوں کو جاری رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک کی خودمختاری بُری طرح پامال ہو رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اپنے ہی ملک سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’حکمرانوں کی جانب سے ڈرون حملوں کی مزمت بھی کی جاتی ہے لیکن حکومت صوبہ بلوچستان سے اڑنے والے ڈرون طیاروں کو روک نہیں سکتی۔‘

نواز شریف نے مزید کہا کہ مہران بیس پر ہونے والے حملے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں انہوں نے پوچھا کہ ’یہ حملہ کس طرح ہوگیا اور کون لوگ اس میں ملوث تھے؟‘ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے باعث ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اس واقعہ کی انکوائری کی بات کی لیکن ابھی تک کوئی انکوائری نہیں ہوئی اور اسی طرح سانحہِ مشرقی پاکستان کی انکوائری بھی سردخانہ میں پڑی ہے جبکہ بے نظیر بھٹو کے قتل اور کارگل کے ایشو کی انکوائری رپورٹ بھی قوم کے سامنے نہیں لائی گئی۔‘

دریں اثناء مسلم لیگ صوبائی کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعلی پیر صابر شاہ اور رحمت سلام خٹک کو بلامقابلہ مسلم لیگ خیبر پختون کے صدر اور جنرل سیکرٹری منتخب کرلیا گیا ہے۔

اسی بارے میں