’امریکہ کے ساتھ تعلقات کیلیے مذاکرات ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور تحریکِ انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے حق میں ہے اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ سے مزاکرات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم پر مسلط کی گئی تھی اور یہ جنگ ہمیں مجبوراً لڑنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغرب کی جانب سے تیار کی جانے والی موجودہ حکمت عملی عمران خان کی سوچ کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب نیٹو فورسز افغانستان میں داخل ہوئیں تو وہاں سے بڑی تعداد میں جنگجو پاکستان میں داخل ہوگئے جنہوں نے ہماری حکومت کی رِٹ کو چیلنج کیا جس کی وجہ سے ہمیں کارروائی کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اب عالمی سطح جو حکمتِ عملی بن رہی ہے وہ عمران خان کی سوچ کے قریب ہے کیونکہ ان کا پہلے دن سے یہی کہنا تھا کہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں اور وہ سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان جاری موجودہ کشیدگی کے بارے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا مقصدکیا ہے۔

’پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تا کہ پاکستان بھی پرسکون رہ سکے افغانستان میں امن کے لیے مزاکرات کرنا ہوں گے اور مزاکرات کے لیے امریکہ کو بھی شامل کرنا ہوگا اور امریکہ کو ہماری حساسیت کا خیال بھی رکھنا ہوگا اس لیے سب سے ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے نئے اصول و ضوابط وضع کیے جائیں۔‘

سیاسی میدان میں ہونے والی ہلچل اور خاص کر مخدوم جاوید ہاشمی کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے صرف ہم نے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑا ہے اور اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔

’وہ (جاوید ہاشمی) اور میں ملتان ہی کے دو مختلف حلقوں سے منتخب ہوچکے ہیں لہٰذا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے انیس سو پچاسی سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مخدوم جاوید ہاشمی کےخلاف ملتان سے انتخابات لڑئے ہیں۔

انہوں کے کہا کہ ان کی جماعت انتخابات کے لیے تیار ہے اور انتخابات جتنی جلدی ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔

ایک سوال پر کے ان کی جماعت نے انتخابات کا ابھی تک مطالبہ نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی تو پارلیمان میں کوئی نشست نہیں ہے اس لیے انہوں نے نون لیگ سے کہا تھا کہ اگر وہ انتخابات کروانا چاہتے ہیں تو اسمبلیوں سے استعفٰی دے دیں تاکہ حکومت انتخابات کے لیے مجبور ہوجائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کےموجودہ اسمبلیاں ویسے بھی اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی کے جلسے کے بعد اب ان کی پہلی ترجیح اندرونِ سندھ تحریکِ انصاف کو منظم کرنا ہے اور اس کے لیے سندھ کے دیگر کئی شہروں میں جلسے بھی کریں گے۔

پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ سے تحریکِ انصاف کی قربتوں اور مبینہ اتحاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان کے شہری ہیں اور ان پرسیاست میں حصہ لینے پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے مگر ان کی جماعت نے ابھی تک کسی جماعت سے اتحاد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس کا فیصلہ وقت آنے پر ہوگا۔

اسی بارے میں