گوجرانوالہ میں چودہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں جاٹ برادری کے دو گروہوں کے درمیان فائرنگ اور مکانات کو آگ لگانے کے واقعے میں چھ بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق گوجرانوالہ سے کوئی دس کلومیٹر دور ایک گاؤں پپلی والا گورایہ میں دیرینہ دشمنی پر ایک گروپ کے افراد نے جمعرات کو فائرنگ کر کے مخالف سیف اللہ گورایہ کو اس کے بھانجے سمیت قتل کر دیا اور فرار ہوگئے۔

مقتولین کے حامیوں نے جوابی حملہ کر کے چار مکانات کو آگ لگا دی اور فائرنگ کی۔

اس حملے میں تین خواتین اور چھ بچے جھلس کر اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں چار سگے بہن بھائی اور ان کی ماں بھی شامل ہے جبکہ چھ ماہ کا ایک بچہ بھی جل کر ہلاک ہو گیا۔

سٹی پولیس آفیسر گوجرانوالہ طفیل احسان کا کہنا ہے کہ پولیس نے اطلاع ملتے ہی کارروائی کی اور موقع پر پہنچ کر چار افراد کو زندہ جلنے سے بچایا۔

پولیس کے مطابق لڑائی کرنے والے دونوں گروپ جاٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داری بھی ہے۔

دونوں گروپوں میں زمین کی ملکیت پر جھگڑا ہوا تھا جس میں اس سے پہلے بھی تین افراد قتل ہو چکے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب کے مشرقی حصے میں شیخوپورہ سے لیکر گجرات اور اردگرد کے علاقے میں دشمنیاں نسل در نسل چلتی ہیں۔

ڈی آئی جی گوجرانوالہ مبارک احمد نے حالیہ قتل کی واردات کے حوالے سے بتایا کہ پولیس دونوں گروہوں کے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔

سی پی او طفیل احسان کے مطابق دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور باقی کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں چودہ ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تمام ملزمان کو فوری طور گرفتار کر کے حکومت کو اس واقعہ کی رپورٹ بھیجی جائے۔

اسی بارے میں