’بائیس سو صنعتوں کو گیس کی فراہمی بند‘

Image caption پنجاب میں حکومت پہلے ہی دو ہزار صنعتوں کے گیس کنکشن معطل کر چکی ہے: وزیرِ پیٹرولیم

پاکستان میں پیٹرولیم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا ہے کہ پنجاب میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے دو ماہ کے لیے بائیس سو مزید صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی پیٹرولیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ان کے بقول پنجاب میں حکومت پہلے ہی دو ہزار صنعتوں کے گیس کنکشن معطل کر چکی ہے اور بائیس سو مزید صنعتوں کی گیس کی فراہمی معطل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ نون کے نمائندے بھی شریک ہوئے اور انہوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی۔

اجلاس میں وزیر نے تجویز پیش کی ملک بھر میں گیس سٹیشنز کی فراہمی ایک ماہ کے لیے بند کی جائے تاکہ گھریلو اور دیگر ضروری صارفین کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آئے۔

ان کی اس تجویز کی مسلم لیگ نون نے تو حمایت کی لیکن حکمران پیپلز پارٹی میں اختلاف رائے کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا اور اس پر غور ملتوی کر دیا گیا۔

کمیٹی میں بعض اراکین نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت میں نئے گیس سٹیشن قائم کرنے پر پابندی کے باوجود جو گیس سٹیشن قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے اس کی فہرست پیش کی جائے۔

کمیٹی کو بریفنگ کے دوران سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ گیس کی چوری روکنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک صرف ایک فیصد چوری روکی جا سکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک فیصد چوری روکنے سے ایک ارب نوے کروڑ روپے کا کمپنی کو فائدہ ہوا ہے۔

ان کے بقول گیس چوری میں ملوث کمپنی کے ایک سو چھ ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے سردیوں میں قدرتی گیس کی کمی کا بحران شدت اختیار کر جاتا ہے اور رواں برس بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں