کوہاٹ ٹنل کی بندش، افغان مہاجرین پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption درہ آدم خیل اور کوہاٹ کے درمیان میں واقع کوہاٹ ٹنل ملک کی مشہور شاہراہ انڈس ہائی وے پر قائم ہے

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں واقع کوہاٹ ٹنل سے افغان مہاجرین کا آنا جانا گزشتہ ایک ماہ سے بند ہے جس کی وجہ سے خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں قائم بیس مہاجر کیپموں کے ہزاروں افغان شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی کوہاٹ ٹنل کے دونوں جانب ان کا داخلہ کوئی وجہ بتائے بغیر بند کر دیا گیا ہے۔

ایک افغان شہری عبدالئحی ساحر نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ کوہاٹ ٹنل پر تعینات سکیورٹی اہلکارگاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں اور جب کوئی افغان شہری نظر آتا ہے تو انھیں گاڑی سے اتار کر وہیں سے ہی اس طرف بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے وہ روانہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اب تک جنوبی اضلاع کوہاٹ، بنوں، ہنگو، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور اور پشاور سے جنوب کی طرف جانے والے ہزاروں افغان مہاجرین کو ٹنل پر روک کر انہیں وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق ایک مرتبہ تو ایک میت جسے پشاور کے راستے افغانستان کی جانب لے جایا جا رہا تھا، اسے ٹنل پر روک کر واپس کوہاٹ بھیج دیا گیا تھا۔

پشاور میں افغان حکومت کے تحت کام کرنے والے مہاجرین کے ایک نمائندے مستری خان مہمند کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں کوئی بیس کے قریب افغان مہاجر کیمپ قائم ہیں جس میں لاکھوں مہاجرین آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن مہاجرین کو حکومت پاکستان کی جانب سے قانونی ’مہاجر کارڈ‘ جاری کئے گئے ہیں ان کو بھی ٹنل سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستانی حکام سے متعدد بار بات چیت کی گئی اور انہوں نے یقین دہانیاں بھی کرائیں تاہم ابھی تک افغانیوں کے لیے ٹنل کو نہیں کھولا جا سکا۔

درہ آدم خیل اور کوہاٹ کے درمیان میں واقع کوہاٹ ٹنل ملک کی مشہور شاہراہ انڈس ہائی وے پر قائم ہے۔

یہ شاہراہ پشاور کو کراچی اور خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر شہروں سے ملاتی ہے۔

ادھر پشاور میں مہاجرین کےلیے قائم پاکستانی ادارے افغان کمشنریٹ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر افغان مہاجرین کا داخلہ کوہاٹ ٹنل سے بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران صوبہ کے چند جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کا خطرہ تھا اسی وجہ سے یہ پابندی لگائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے بات چیت چل رہی ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ آئندہ چند دنوں تک ٹنل افغان مہاجرین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ایک سینیئر افغان صحافی سمی یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اس بندش سے کابل اور دیگر افغان علاقوں میں غلط پیغام جا رہا ہے اوراس سے وہاں لوگوں میں اشتعال بھی پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختون خوا میں ایک اندازے کے مطابق کوئی ستر کے قریب چھوٹے بڑے افغان مہاجرکیمپ قائم ہیں جن میں سترہ لاکھ کے قریب مہاجرین قانونی اور غیر قانونی طورپر رہائش پذیر ہیں۔

اسی بارے میں