درخواست گزاروں کی نیت پر شک ہے: عاصمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے جو بیانات دیے ہیں ان کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

سپریم کورٹ میں متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس لیے عدالت یہ درخواست خارج کر دے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دینے جانے کے حوالے سے اپنے دلائل مکمل کیے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے امریکہ کے قومی سلامتی کے سابقِ مشیر جنرل جیمز جونز کا حلفیہ بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

اس بیان میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی متنازع میمو میں ملوث نہیں ہیں۔

اس مرحلے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ ملک کے سپہ سالار کہتے ہیں کہ میمو درست ہے اور آپ غیر ملکی جنرل کی بیان کو کیوں اہمیت دیتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے بیان کو ہی دہرایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی ایس آئی کے سربراہ متنازع میمو کے خالق منصور اعجاز سے ملاقات سے پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے اور یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تمام شہری ملک دشمن ہیں: عاصمہ جہانگیر

انھوں نے مزید کہا کہ’ آئی ایس آئی کے سربراہ متنازع میمو کے خالق منصور اعجاز سے ملاقات سے پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے اور یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تمام شہری ملک دشمن ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ منصور اعجاز کی طرف سے عدالت میں جمع کرایا گیا فون ریکارڈ شائع شدہ ریکارڈ سے مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں میمو کا ذکر ہے جبکہ شائع شدہ گفتگو میں اس کا ذکر نہیں ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کے خیال میں سپریم کورٹ کی کارروائی ایک ٹاک شو کے مانند ہے جس میں نو میزبان اور ایک مہمان ہوتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ درخواست گزاروں کی نیت پر شک ہے اور عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ درخواست گزاروں کے کیا مفادات ہیں اور میمو کی وجہ سے ان کے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل کے دوران یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل حسین حقانی پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی ان کے بنیادی حق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے البتہ ان سے کہا گیا ہے کہ جب وہ باہر جائیں تو وہ عدالت کو بتا کر جائیں۔

عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر میمو کے معاملے کو حقیقت سمجھ بھی لیں تو پھر بھی حسین حقانی کی جانب سے منصور اعجاز کو وسیلہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میمو کے بارے میں بات چل رہی ہو اور آئی ایس آئی اس معاملے سے بے خبر ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر میمو کے معاملے کو حقیقت سمجھ بھی لیں تو پھر بھی حسین حقانی کی جانب سے منصور اعجاز کو وسیلہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی: عاصمہ جہانگیر

انھوں نے یہ بھی کہا کہ منصور اعجاز گزشتہ تین سال سے آئی ایس آئی کے خلاف مضامین لکھ رہے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دلائل سننے کے دوران ایک مرحلے پر اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسی درخواست گزار نے حسین حقانی پر الزام عائد کیا ہے اور نہ ہی داد رسی کی استدعا کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے جو بیانات دیے ہیں ان کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ نواز شریف بھی فوج کے خلاف امریکہ سے مدد طلب کرنے گئے تھے۔

چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ اس طرح کے تمام حقائق کسی نہ کسی فورم پر سامنے لانے ہوں گے۔

عاصمہ جہانگیر نے گزشتہ روز بدھ کو ان درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا تھا ملک کی عسکری قیادت اور حکومت میں تناؤ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے متنازع میمو کے اصل حقائق سامنے نہیں آ سکتے۔

عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ اُن کے موکل کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس میمو سے متعلق تحقیقات کے لیے قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی ہی اصل فورم ہے اور اس کمیٹی پر عدم اعتماد دراصل پارلیمان پر عدم اعتماد ہے۔

اسی بارے میں