’یہ لوگوں کی عدلیہ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ میں متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں میں پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ایک نہ ایک دن درخواست گزاروں کو ضرور تکلیف دے گا۔

دریں اثناء نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آئین اور قانون کے منافی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کی جانب سے متنازع میمو سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیے جانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ’ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ حکومت رہے نہ رہے، تاہم میں یہ بات ضرور کہوں کی یہ فیصلہ ایک نہ ایک دن درخواست گزاروں کو تکلیف ضرور دے گا اور درخواست گزار یہ یاد رکھیں کہ فیصلے کے دن ایک عورت نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’آج میں سوچتی ہوں کہ کیا یہ لوگوں کی عدلیہ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی عدلیہ ہے؟ میرا یہ حق بنتا ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے وہ پبلک پراپرٹی ہوتی ہے اور میں اس سے اختلاف کر سکتی ہوں اور میں پرجوش طریقے سے اس سے اختلاف کرتی ہوں۔‘

بقول ان کے اگر یہ توہین عدالت بنتی بھی ہے تو میں جیل جانے کو بھی تیار ہوں۔ اگر میں قانون کی حکمرانی کے لیے ماریں کھا سکتی ہوں تو میں آج لوگوں کے حقوق کے لیے، لوگوں کو بتانے کے لیے کہ آپ کے حقوق پر کیسے سمجھوتے ہو رہے ہیں؟ اور وہ بھی اس عدلیہ سے جو سب سے بڑی عدلیہ ہے اور اگر اس کے لیے مجھے توہینِ عدالت لگتی ہے تو سر آنکھوں پر۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ ’آج میں سمجھتی ہوں کہ سویلین اتھارٹی، عسکری اتھارٹی کے نیچے ہے اور جو ہماری جدو جہد تھی کہ ہم جمہوریت کی جانب جا رہے ہیں اس جدوجہد میں ایک ٹھہراو آیا ہے۔‘

خیال رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس لیے عدالت یہ درخواست خارج کر دے۔

دریں اثناء اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آئین اور قانون کے منافی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس متنازع میمو سے متعلق عدالتی فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اس پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنی چاہیے یا نہیں۔

یاد رہے کہ اٹارنی جنرل اس متنازع میمو میں وفاق کے علاوہ وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے اس میمو سے متعلق نہ تو کوئی جواب جمع کروایا گیا اور نہ ہی اُن کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا۔

مولوی انوار الحق کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے میں عدلیہ نے اگرچے اس میمو کی تحقیقات کرنے والی قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی کے بارے میں تو کچھ نہیں کیا لیکن اُن کی نظر میں عدالت کا یکم دسمبر کا حکم ہی لاگو ہوگا جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی عدالت اس میمو کی تفتیش کرنے سے متعلق بااختیار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس متنازع میمو سے متعلق جو تحقیقاتی کیمشن تشکیل دیا گیا ہے وفاق کو اُن پر اعتماد ہے۔

درخواست گُزار اسحاق ڈار جن کا تعلق حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون سے ہے کا کہنا تھا کہ اُن کے جماعت کی طرف سے جتنی بھی درخواستیں دائر کی گئیں اُس میں کسی پر بھی کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس متنازع میمو سے متعلق اصل کرداروں کے بارے میں قوم کو معلوم ہونا چاہیے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحققیات کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کے ساتھ سب کو تعاون کرناچاہیے۔

اسی بارے میں