کوئٹہ: دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد پندرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکام کے مطابق ایک زور دار دھماکہ کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعہ کی شام کوئٹہ کی ارباب کرم خان روڑ پر واقع سابقِ وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ق کے رہنماء نصیر مینگل کی رہائش گاہ کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں حکام کے مطابق پندرہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس اور فوجی ہسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کر دیاگیاجہاں ڈاکٹروں نے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشن نذیر کرد کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ ایک گاڑی میں نصب ایک طاقتور بم کے پھٹنے سے ہوا۔

دھماکے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں لیکن کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔

دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے سے کئی مکانات اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ نصیر مینگل کی رہائش گاہ اور آس پاس کے مکانات میں کافی دیر تک آگ لگی رہی۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لیا اور اس دوران میڈیا کو بھی دھماکے کی جگہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دھماکے سے شہریوں میں خوف پھیل گیا اور دھماکے کے بعد شہر کی اکثر مارکیٹیں بند ہوگئیں۔

درین اثناء بلوچ لبریشن آرمی یا بی ایل اے کے ایک ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ترجمان کے مطابق’ان کی فدائی تنظیم مجید بریگیڈ کے ایک جوان درویش بلوچ نے شفیق مینگل کے مکان پر خودکش حملہ کیا ہے۔‘

ترجمان میرک بلوچ کے مطابق جمعہ کو ان کی فدائی تنظیم مجید بریگیڈ کی جانب سے پہلا خودکش حملہ تھا اور مستقبل میں بھی حملے کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں