کراچی: شیعہ رہنما کے قتل کے خلاف دھرنا

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گلشن چورنگی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ میں پاسبان جعفریہ کے رہنما رضا عسکری ہلاک اور علی مہدی زخمی ہوگئے تھے

کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شیعہ رہنما عسکری رضا کے قتل کے خلاف مقتول کی لاش سمیت شیعہ تنظیموں نے گورنر ہاؤس کے سامنے تقریباً بارہ گھنٹے تک دھرنا دیا۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی جانب سے ملزمان کے خلاف ایف آر درج کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

پیر کی صبح مقتول شیعہ رہنما عسکری حسن کو کراچی کے وادی حسین قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

اس سے پہلے رضا عسکری کی نماز جنازہ اتوار کی دوپہر کو انچولی میں ادا کی گئی، جس کے بعد مظاہرین نے لاش سمیت دھرنا دیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ رضا عسکری کے قتل کا مقدمہ اصل ملزمان کے خلاف دائر کیا جائے۔ اس موقعے پر شاہراہ پاکستان پر ٹائروں کو نذر آتش کرکے ٹرئفک کو بھی معطل کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے کوئی یقین دہانی نہ کرانے کے بعد مظاہرین نے لاش کے ہمراہ گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کیا ہے۔

اس دوران ایم جناح روڈ پر نماز بھی ادا کی گئی، مظاہرین جن کی تعداد ہزاروں میں تھی اتوار کو آٹھ بجے شب گورنر ہاؤس پہنچے۔

گورنر ہاؤس کے سامنے پولیس نفری میں اضافہ کیا گیا اور پانی کے ٹینکر کھڑے کیے گئے مگر مظاہرین گورنر ہاؤس کے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

مظاہرین میں خواتین بھی شامل تھیں اور ایمبولینس میں عسکری رضا کی میت بھی موجود رہی، جس کے باعث پولیس نے واٹر کینن کا استعمال نہیں کیا۔

یاد رہے کہ سنیچر کو گلشن چورنگی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ میں پاسبان جعفریہ کے رہنما رضا عسکری ہلاک اور علی مہدی زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراؤ اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ گورنر ہاؤس نے ایک مفتی کی سفارش پر ملزمان کو رہا کروانے میں کردار ادا کیا، جس قبول نہیں کیا جائے گا۔