مطالبات مان لیےگئے،گیس سٹیشنز کی ہڑتال ختم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سی این جی کی ہڑتال کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے بعدگیس سٹیشنز کی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں گیس سپلائی میں کٹوتی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہڑتال کی وجہ سے سی این جی سٹیشن خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر غیرمعینہ مدت کے لیے جبکہ پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں دو دن سے بند تھے۔

ہڑتال کے خاتمے کا فیصلہ منگل کو اسلام آباد میں سیکرٹری پیٹرولیم اور سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ کے درمیان مذاکرات کے بعد ہوا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سیکرٹری پیٹرولیم اعجاز چودھری نے مذاکرات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ سی این جی ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹرز کی تنظیم کے ساتھ تمام معاملات حل کر لیے گئے ہیں اور انہوں نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی این جی ایسوسی ایشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سی این کی فراہمی بندش کے تیسرے دن رات دس بجے شروع ہوا کرے گی۔

اعجاز چودھری نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی کے استعمال پر عائد پابندی تیس دن کے لیے معطل کر دی گئی ہے اور اس دوران گاڑیوں میں نصب سلینڈرز کی چیکنگ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی این جی سیکٹر پر عائد سیس میں بھی مزید دس فیصد کمی کی گئی ہے جس کے بارے میں اوگرا نوٹیفیکیشن جاری کرےگی۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حکومت نے ان کے تین مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد اور راولپنڈی میں منگل کو بھی ٹرانسپورٹرز اور شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر سی این جی کی بندش کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مان گئی ہے کہ یکم فروری سے سی این جی کی قیمت میں چالیس فیصد یا تقریباً سات سے نو روپے فی کلو کا جو اضافہ ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا اور موجودہ قیمت میں بھی ٹیکس میں دس فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

سی این جی کی ہڑتال کی وجہ سے پاکستان میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں منگل کو بھی ٹرانسپورٹرز اور شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر سی این جی کی بندش کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نےحکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ٹائر جلائے۔

اس احتجاج میں سی این جی پمپس مالکان اور ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل تھے۔

منگل کو احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے، آئی جی پی ایل اور مری روڈ پر ٹریفک معطل ہوگئی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے راولپنڈی میں جی ٹی روڈ کو بھی بلاک کر دیا جبکہ فیض آباد میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

اسی بارے میں