خیبر ایجنسی، پشاور میں دھماکے، پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک بم دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ پشاور کے دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی دوپہر تحصیل لنڈی کوتل کے بازار میں واقع باچا خان چوک میں خاصہ دار فورس کے صوبیدار کے گاڑی کے سامنے ایک بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے یہ لنڈی کوتل بازار کا مین چوک ہے جس کے آمنے سامنے کھانے پینے کے ہوٹل اور اخبارات کی دوکانیں بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چوک کے قریب ایک چھوٹا سا پارک ہے جس میں خاصہ دار فورس کے صوبیدار دن کے وقت اپنی گاڑی کھڑی کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے صوبیدار کی گاڑی کے علاوہ دوسرے گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے عام شہری ہے جس میں ایک سکول کا طلب علم بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ پشاور یونیورسٹی پر ہونے دھماکے میں بھی دو افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس اہلکار امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکے ایک نجی بینک کے نیچے ایک جوس کے دوکان میں ہوا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے۔

لیکن بعض پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ دھماکہ ایک سائیکل میں نصب بم پھٹنے سے ہوا ہے۔

واضح رہے کہ جس جگہ یہ دھماکہ یہ ایک پانچ منزلہ عمارت ہے۔جس کے نیچے والے حصے میں نیٹ کیفوں کی دوکانیں ہیں اور دوسری منزل میں الفلاح بینک ہے جبکہ اوپر والے حصے میں مختلف این جی اویز کے دفاتر بھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں