موبائل کے استعمال پر پابندی کی قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ none

پنجاب اسمبلی نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل اور فوری پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔

یہ قرارداد مطالبہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی رکن راحیلہ خادم حسین نے پیش کی تھی۔

پنجاب اسمبلی کے ارکان نے متفقہ طور صوبائی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ صوبے میں لڑکیوں اور لڑکوں کے سکولوں اور کالجوں میں موبائل فون استعمال کرنے پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔

قرارداد پیش کرنے والی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال اچھی بات ہے لیکن بقول ان کے اس کے بے جا استعمال سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موبائل استعمال کرنے سے بچےسکول میں پڑھائی پر دھیان نہیں دیتے اور سکول میں اپنے دوستوں کو ایس ایم ایس یعنی موبائل فون کے ذریعے پیغام رسانی میں مصروف رہتے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبے کے شہری علاقوں میں سکول اور کالج جانے والے طلبا کی ایک بڑی تعداد موبائل فون استعمال کرتی ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والی مختلف موبائل فون کمپنیوں نے ایسے پیکیج متعارف کرائے ہیں جن کے تحت انتہائی کم پیسوں میں طویل بات کی جاسکتی ہے اور یہ پیکیج طلباء میں خاصے مقبول ہیں۔

راحیلہ خادم حسین کے بقول کچھ والدین اپنے بچوں کو مہنگے موبائل خرید کردیتے ہیں اور ایسے والدین بھی ہیں جو بچوں کو مہنگے فون لے کر نہیں دے سکتے اس طرح بچوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قرار داد پیش کرکے پنجاب کے ان والدین کی آواز کو بلند کیا ہے جو اپنے بچوں کو نت نئے مہنگے موبائل خرید کر نہیں دے سکتے۔

راحیلہ خادم حسین نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں طلبا کے موبائل فون پر استعمال کرنے پر پابندی کے حوالےسے پہلے سے ہی ملک میں قانون موجود ہے لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے انہوں نے اس پر عمل درآمد کی خاطر یہ قرار داد پیش کی تاکہ کم از کم پنجاب میں اس قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے سکا

خیال رہے کہ دو سال پہلے پنجاب اسمبلی نے ایک قرار دادا کے ذریعے وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے دیر رات کے سستے پیکیجوں پر پابندی لگائی جائے۔

اسی بارے میں