این آر او عمل درآمد:’حکومت، نیب کو آخری موقع‘

فائل فوٹو، سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption این آر او عمل درآمد کیس کی دوبارہ سماعت دس جنوری کو ہو گی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے حکومت اور قومی احتساب بیورو کو آخری موقع دیا جا رہا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے این آر او پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے موقع پر جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہا کہ اگر این آر او پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا تو خواہ کوئی بھی شخص چاہے جتنے بڑے عہدے پر فائز ہوا، اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے سیکرٹری قانون کو حکم دیا کہ دس جنوری کو آئندہ سماعت کے موقع پر سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق سمری کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ سولہ دسمبر دو ہزار نو کو سپریم کورٹ نے این آر او سے متعلق اپنے فیصلے میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق وفاقی حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں ہدایات جاری کی تھیں تاہم حکومت کا موقف ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنی حاصل ہے اس لیے اُن کے خلاف اندرون ملک اور بیرون ملک مقدمات نہیں کھولے جا سکتے۔

منگل کو عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا سے کہا کہ عدالت نے این آر او سے مستفید ہونے والے تمام افراد کے خلاف مقدمات کو پانچ اکتوبر سنہ دوہزار سات سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس ضمن میں دیکھیں کہ اب تک کتنے مقدمات بحال ہوئے ہیں اور اس میں کتنے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کا موقف ہے کہ صدر زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان کے خلاف مقدمات نہیں کھولے جا سکتے ہیں

سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل مولوی انور الحق نے کہا کہ این آر او پر عمل درآمد سے متعلق کام اس لیے شروع نہیں کیا جا سکا کیونکہ حکومت نے عدالت سے این آر او فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک میٹرک پاس شخص عدنان خواجہ کو تیل اور گیس کے سرکاری ادارے ’او جی ڈی سی‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا حالانکہ یہ پیشہ وارانہ عہدہ ہے اس کے علاوہ مذکورہ شخص نیب سے سزا یافتہ بھی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اسی طرح نیب کے ایک اور سزا یافتہ شخص احمد ریاض شیخ کو ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لگا دیا گیا۔

عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا سے استفسار کیا کہ کیا جن لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اُن کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے جس پر پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب میگا سکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ ان درخواستوں کی گُزشتہ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ عدنان خواجہ کی او جی ڈی سی ایل کے بطور چیئرمین تعیناتی وزیر اعظم کے زبانی حکم پر کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ چودہ دسمبر کو سپریم کورٹ نے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس کیے تھے اور دو ہفتوں میں جواب طلب کیا تھا۔

اس سے پہلے وفاقی حکومت کی طرف سے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی جسے آٹھ دسمبر کو مسترد کر دیا گیا تھا اور عدالت نے اپنے سولہ دسمبر کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والے تمام افراد کے خلاف مقدمات کو پانچ اکتوبر سنہ دو ہزار سات سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری ہونے والے اس آرڈیننس کے تحت صدر آصف علی زرداری سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات ختم کر دیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ میں جمع کراوئے گئے اعداد و شمار کے مطابق حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف فوجداری مقدمات تھے جو اس آرڈیننس کے تحت ختم کر دیے گئے۔

اسی بارے میں