تاثیر کی برسی، توہینِ رسالت کے قوانین میں اصلاح کا مطالبہ

سلمان تاثیر کی یاد میں تقریب تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption سلمان تاثیر ایک عیسائی خاتون کو توہین رسالت کے قانون کے تحت موت کی سزائے سنائے جانے کے خلاف تھے

پاکستان کے صوبے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی پہلی برسی کے موقع پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی حکومت سے فوری طور پر توہیین رسالت کے قوانین میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلمان تاثیر کو گزشتہ سال چار جنوری کو ان کے ذاتی محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے قانون کے تحت موت کی سزائے سنائے جانے کے خلاف تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا اور بحرالکاہل کے ڈائریکٹر سام ضریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سلمان تاثیر کو ایک مظلوم خاتون کی حمائت کرنے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا تھا۔‘

سلمان تاثیر کے ذاتی محافظ ممتاز قادری نے گورنر کو قتل کرنے کے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے سلمان تاثیر پر توہین رسالت کے قوانین کے خلاف بیان دینے پر گولیاں چلائیں تھیں۔

ممتاز قادری کو مجرم قرار دے کر انہیں یکم اکتوبر سنہ دو ہزار گیارہ میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ قادری کو سزا سنانے والے جج اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہی روپوش ہو گئے تھے۔

سام ضریف نے کہا کہ آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنائے جانے اور سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنانے والے جج کے روپوش ہونے کے واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بلادستی توہین رسالت کے قوانین کی وجہ سے مخدوش ہو گئی ہے۔

آسیہ بی بی کو ساتھی قیدیوں کی طرف سے جان کے خطرے کی وجہ سے مستقل قید تنہائی میں رہنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

ان کی سزا کے خلاف اپیل کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہونا باقی ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کی مبہم دفعات، ان الزامات کی تحقیقات کے غیر تسلی بخش طریقہ کار اور مذہبی گروہوں کی طرف سے دھمکی آمیز اور جارحانہ ردعمل کی وجہ سے ملک کی فضا غیر محفوظ ہو گئی ہے۔

سام ضریف نے کہا کہ ملک کی اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی سنہ دو ہزار دس میں توہین رسالت کے قوانین میں اصلاح کرنے کی سفارش کی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے سنہ دو ہزار نو اور دو ہزار دس میں وعدہ کیا تھا کہ مذہبی ہم آہنگی میں رکاوٹ بننے والے قوانین پر نظر ثانی اور اصلاحات کی جائیں گی لیکن تاثیر اور اقلیتیوں کے وزیر کے قتل کے بعد حکومت نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

اگست میں سلمان ثاتیر کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا تھا اور خدشہ ہے کہ اغواء کار ان کی رہائی کے بدلے ممتاز قادری کی سزا معاف کرانے کا مطالبہ کریں گے۔

سلمان ضریفی نے کہا کہ یہ خطرناک واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ توہین رسالت کے قوانین جس شکل میں آج نافذ ہیں تمام پاکستانیوں کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ ان کی موجودگی میں کوئی بھی شخص کسی کی جان لے کر اسے مذہبی رنگ دے سکتا ہے۔ مزید براں اب تک اس قانون کا نشانہ بننے والے زیادہ افراد راسخ العقیدہ ممسلمان تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلمان تاثیر کے قتل کے ایک سال بعد شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جرات مندانہ اقدام کرنے کی ان کی روایت کو برقرار رکھنا چاہیے اور توہین رسالت کی اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے اقدامات سے یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ کوئی شخص بھی قانون سے بلاتر نہیں اور کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں