ژوب جھڑپ: چھ شدت پسند ہلاک تیرہ گرفتار

بلوچستان فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایف سی کے دواہلکار زخمی ہوئے ہیں

بلوچستان کے ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک جبکہ تیرہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ واقعہ میں ایف سی کے دواہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ضلع ژوب کے علاقے مرغہ کبزئی میں بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی جب سکیورٹی فورسز علاقے میں موجود شدت پسندوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس دوران شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔

فائرنگ سے پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے اور تیرہ کو زندہ گرفتار کرلیا گیا جبکہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایف سی کے دواہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنرژوب حامد کریم نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں تحصیلدار اور دیگرعملے کومرغہ کبزئی روانہ کردیاگیا ہے۔

ژوب کے مقامی صحافیوں کے مطابق علاقے میں تاحال سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فرنٹیئرکور کا ایک اور قافلہ ژوب سے مرغہ کبیزئی کی طرف روانہ کردیاگیا ہے۔

جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کواطلاع تھی کہ مرغہ کبزئی میں تحریک طالبان پاکستان کے اہلکار موجود ہیں جس پر سکیورٹی فورسز نے آج صبح کارروائی کا آغاز کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز بلوچستان کے علاقے پیش میں لیویز نے ایک کارروائی کرتے ہوئے پانچ شدت پسندوں کو اس وقت ہلاک کیا تھا جب وہ پشین کے علاقے ہکلزئی سے تین ڈاکٹروں کو اغواء کرکے ژوب کی طرف جا رہے تھے۔ لیویز نے شدت پسند کو زندہ گرفتار کرکے ان سے تفتیش شروع کردی ہے۔

اسی بارے میں