حسین حقانی کا نیا وکیل مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے مبینہ میمو کی تحقیقات کے لیے قائم تین رکنی کمیشن کے روبرو پیروی کے لیے ماہر قانون سید زاہد حسین بخاری کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

انہوں نے یہ فیصلہ اپنی وکیل عاصمہ جہانگر کی کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرنے کے بعد کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے سید زاہد حسین بخاری نے بتایا کہ حسین حقانی کا ان سے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد وہ سابق سفیر کے وکیل مقرر ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر قائم تین رکنی کمیشن نے دو جنوری کو متنازعہ میمو کی تحقیقات شروع کی ہیں اور حسین حقانی سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

سید زاہد حسین بخاری کے مطابق حسین حقانی نے اپنے ایک دوست کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور انہیں کمیشن کے سامنے پیروی کرنے کے لیے کہا۔

حسین حقانی کے نئے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ نو جنوری کو کمیشن کے روبرو پیش ہوں گے اور اپنے موکل کی پیروی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے روبرو ساجد تنولی ایڈووکیٹ ان کی معاونت کریں گے۔

مبینہ میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیْ ہیں جبکہ دیگر دو ارکان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

سید زاہد حسین بخاری فوجداری قانون کے ماہر کے طور پر جانے جاتےہیں اور وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں قائم کیے جانے والے ریفرنسوں میں صدر آصف علی زرداری کے وکیل رہ چکے ہیں۔ انہوں نے امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے خلاف ان کے وکیل کے طور پر پیروی کی تھی۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے چند روز پہلے کمیشن کے روبرو پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ جب مرضی کے فیصلے ہونے ہیں تو پیروی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔