سابق گورنر سلمان تاثیر کی پہلی برسی

تصویر کے کاپی رائٹ jupiter still

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سلمان تاثر کی بدھ کو پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔

چار جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس کی کوہسار مارکیٹ میں گورنر پنجاب سلمان تاثر کو ان کے ذاتی سرکاری محافظ ممتاز قادری نے توہینِ رسالت کے قانون میں ترامیم کا مطالبہ کرنے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

مذہب کے نام پر

سب غازی سب شہید

قتل سے پہلے گورنر پنجاب سلمان تاثیرنے توہین رسالت میں موت کی سزا یافتہ آسیہ بی بی سی ملاقات کی تھی اور یہ عندیہ دیا کہ صدر مملکت ان کی سزا معاف کردیں گے۔انہوں نے آسیہ مسیح کو بے گناہ قرار دیا اورتجویز کیا کہ توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے،ان کے خلاف کفر کے فتوی لگے اور احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن انہوں نے کسی بھی دباؤ میں آنے سے صاف انکار کردیا تھا۔

گورنر پنجاب کوہسار مارکیٹ میں واقع ایک ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے کہ ان کے محافظ نے ان پر فائرنگ کی دی تھی۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کے جسم پر ستائیس گولیوں کے نشانات تھے۔ ڈاکٹر محمد فرخ کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کو پیچھے سے گولیاں ماری گئیں۔ اس کے علاوہ اُنہیں گردن پر جو دو گولیاں لگیں وہ اُن کی موت کا سبب بنی۔ اُنہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کے پھیپڑے بھی گولیوں سے متاثر ہوئے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کے ملزم ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کی سزا سُنائی تھی۔

تاہم اس فیصلے کے دس روز بعد ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نےمجرم ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

اسی بارے میں