وزیرستان: سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک پہاڑی نالے سے فرنٹیر کانسٹبلری کے پندرہ اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان نے ایف سی کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ جمعرات کی صبح تحصیل شوہ کے شمال مغرب میں واقع ایک پہاڑی نالے سے ایف سی اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔

اہلکار کے مطابق ایف سی اہلکاروں کوگولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے اور لاشوں کو دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ انھیں جمعرات کی صبح ہی ہلاک کیا گیا ہے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق ایف سی اہلکاروں کی لاشوں کو ٹل کے فوجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے پندرہ اہلکاروں کو تئیس دسمبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک کے علاقے ملازئی میں قائم فرنٹیئر کانسٹبلری کے قلعے سے اغوا کیا گیا تھا۔

ایف سی قلعے پر پچاس کے قریب مسلح شدت پسندوں کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پندرہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

اس وقت ایف سی قلعہ میں بیس سے تیس کے قریب اہلکار موجود تھے۔ شدت پسند قلعہ سے اسلحہ اور دیگر ساز و سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

اس واقعے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے قبول کی تھی۔

جمعرات کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ایف سی اہلکاروں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر ایجنسی میں ہلاک ہونے والے’ان کے ساتھیوں کے اہلخانہ(خواتین) کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری ایک غیر اسلامی غیر اخلاقی اور خطرناک فعل ہے اور اس پر سکیورٹی فورسز کو خبردار کیا جاتا ہے۔‘

’ بیان کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کو رہا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔‘

خیال رہے کہ رواں ماہ یکم جنوری کو خیبر ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈر قاری کامران سمیت بارہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ دو خواتین اور تین بچوں کو بھی شدت پسندوں کی تحویل سے برآمد کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے خودکش حملوں اور پرتشدد کارروائیوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی تھی لیکن اب ان واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

چوبیس دسمبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کے نواح میں واقع فرنٹیئر کور کے قلعے پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں