پاکستان سے بھارتی ماہی گیروں کی رہائی

بھارتی ماہی گیروں کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی جیلوں میں ابھی بھی بھارتی ماہی گیر قید ہیں

بھارت کے ایک سو اناسی ماہی گیروں کو ہفتے کی صبح کراچی کی ملیرجیل سے رہا کیا جا رہا ہے جنہیں اتوار کی صبح واہگہ سرحد پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا جائےگا۔

کراچی میں پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) ناصراسلم زاہد نے بتایا کہ ان ماہی گیروں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ انجانے میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے بھارت کی سرحد عبور کر کے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوگئے تھے۔

انکا کہنا تھا سمندر میں کوئی واضح حد بندی نہیں ہوتی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک کا تنازعہ ویسے بھی ابھی تک حل طلب ہے۔

ناصر اسلم زاہد نے کہا ان قیدیوں کی رہائی کے بعد مزید دوسو چھہتر قیدی رہا کیے جائیں گے جن میں سے تین افراد پر ابھی مقدمہ چل رہا ہے۔

تراسی ایسے قیدی ہیں جن کے بھارتی شہری ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور انہیں ان کی سزا پوری ہوتے ہی رہا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کسی دوسرے قیدی کو تو سزا پوری ہوتے ہی چھوڑا جاسکتا ہے مگر کیونکہ ایسے قیدیوں کی شہریت کی تصدیق ان کے سفارت خانے کی جانب سے کی جاتی ہے اس لیے اس میں وقت لگتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں جانب کی حکومتیں دلچسپی لیں تو تصدیق کا عمل جو اس وقت ایک سال میں مکمل ہوتا ہے ایک ماہ سے بھی کم کے عرصے میں ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی سپریم کورٹ اپنے فیصلہ میں کہہ چکی ہے کہ جو بھی قیدی اپنی سزا مکمل کرلے تو اسے ایک دن میں قید میں رکھنا بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

اسی طرح پاکستان کی سپریم کورٹ بھی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ قید پوری کرنے والوں کو فوری طور پر رہا کردینا چاہیے۔

پاکستان فشرمین فوک فورم کے صدر محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا انہیں امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایسا قدم اٹھانے کے بعد بھارت بھی وہاں موجود پاکستانی قیدیوں کو رہا کردےگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے بیالیس مچھیرے بھارت میں قید ہیں جن کی تصدیق ہوچکی ہے مگر اس کے علاوہ اکسٹھ ایسے افراد ہیں جو کئی سالوں سے لاپتہ ہیں جن میں سے کچھ انیس سو ترانوے سے اور کچھ انیس سو ننانوے سے وہاں قید ہیں اور ان کے بارے میں معلومات صرف تب ملتی ہیں جب پاکستانی مچھیرے جو بھارت کی قید سے چھوٹ کر آتے ہیں وہ ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ عالمی کنونشنز کے تحت دونوں جانب سے پچاس پچاس ناٹیکل میل کا علاقہ مشترکہ قرار دیا جائے جہاں چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والوں کو مچھلیاں مکڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

پاکستان کے سابق وزیر قانون اقبال حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمری اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ ماہی گیر قیدیوں کی رہائی فوری طور ممکن بنانے کی ضرورت ہے اور زیادہ سے زیادہ ان کی مچھلیاں ضبط کرلی جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک ماہی گیروں کوگرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کشتیاں بھی ضبط کرلیتے ہیں اور ماہی گیروں کو رہا کرنے کے بعد ان کی کشتیاں چھوڑی نہیں جاتیں جو بعد میں مقامی حکام اونے پونے دام فروخت کردیتے ہیں۔

اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں کو رہا بھی سمندر کے علاقے سے کرنا چاہیے ناکہ واہگہ بارڈو کے راستہ کیونکہ یہ سب سرکریک کے علاقے کے رہنے والے ہوتے ہیں۔

انہوں نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انسانی بنیادوں پر ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں اور ان قیدیوں کو رہا کیا جائے جو کسی بھی وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں ماہی گیروں کے بارے میں موجود سارک کنونشن کی حقیقی معنوں میں پاسداری کریں۔

اسی بارے میں