مولانا کوجلد جواب بھیجاجائےگا:خواجہ آصف

خواجہ آصف: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’موجودہ انتخابی فہرستوں پر سیاسی جماعتوں کو اعتراضات ہیں‘

مسلم لیگ نواز کےمرکزی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نےکہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نےمیاں نوازشریف سےجلد انتخابات کے لیے جو رابطہ کیا ہے اس کا انہیں جلد ہی مثبت جواب بھیجا جائےگا۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ مولانا صاحب نےجن معاملات کو اٹھایا ہے وہ بہت اہم ہیں کیونکہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کا ایک اہم کردار ہے اور اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کوموجودہ انتخابی فہرستوں پر اعتراضات ہیں۔

خواجہ آصف کےمطابق اس معاملے پر صرف مسلم لیگ اور مولانافضل الرحمان کا ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر انتخابات جلدی ہوتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ان کی شفافیت پر کوئی سوالیہ نشان نہ لگے یہ جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے۔

انہوں نےکہا کہ موجودہ انتخابی فہرستوں پر سیاسی جماعتوں کو بہت شدید اعتراضات ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اندرونِ سندھ کی نسبت کراچی کی انتخابی فہرستوں میں بہت زیادہ بےضابطگیاں ہیں اور اسی طرح پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی انتخابی فہرستوں میں بھی بے ضابطگیاں ہیں اور اس بارے میں اسی چیز کو درست کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے الیکشن کمیشن سے مذاکرات جاری ہیں جس میں ن لیگ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ہونے والی بھرتیاں بہت اہم ہوتی ہیں۔

اس سوال پر کہ آیا حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں اس بات پر کتنی تشویش ہے کہ اگر مارچ میں سینٹ کے انتخابات ہوگئے تو پیپلز پارٹی کو تین سال کے لیے سینٹ میں اکثریت مل جائے گی خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں شکست ہوتی ہے تو آنے والی حکومت کو پیپلز پارٹی کی سینٹ میں اکثریت تنگ تو کرسکتی ہے مگر فیصلہ کُن کردار ادا نہیں کر سکتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ذرائع ابلاغ نے مارچ میں سینٹ کے انتخابات کو کچھ زیادہ ہی موضوعِ بحث بنا لیا ہے، جمہوری عمل میں ایسا ہوتا ہے کہ کہیں اکثریت اور کہیں اقلیت ہوتی ہے مگر اصل کردار قومی اسمبلی میں موجود اراکین کا ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری کی نگرانی میں عام انتخابات کے انعقاد پر ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن خود مختار ہو تو اوپر صدر آصف علی زرداری ہوں یا کوئی اور اس سے فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نےمزید کہا کہ انتخابات کے بعد بھی اگر قومی اسمبلی نےاپنا کردارمناسب طریقےسےادا کیا تو صدر نہ تو وزیرِ اعظم کے انتخاب پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اورنہ ہی قانون سازی پر۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں قومی اسمبلی نے اپنا کردار مؤثرطریقے سےادا نہیں کیا، اگر قومی اسمبلی اپنا کردار ادا کرے تو اس پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا چاہے وہ صدر مملکت ہوں یا پھر راولپنڈی والے اور اس سارے عمل کی ضمانت شفاف انتخابات ہوتے ہیں۔

انتخابات کے لیے نگران حکومت کے قیام کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں صرف ن لیگ کی مرضی نہیں چلے گی بلکہ اس پر سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے اور جمہوریت اور نظام کے مفاد میں یہ بات ہے کہ تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں ان کا الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام جماعتیں کسی ایک بنیادی ضابطے پر متفق ہو جائیں۔

اسی بارے میں