بلوچستان:’ پشتون اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

بلوچستان میں پشتون قبائل کے جرگہ نے اغواء برائے تاؤان اورشدت پسندی کے بڑتے ہوئے وارداتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور کہا کہ اگراغواء اور دہشت کی وارداتوں پر قابو نہیں پایاگیا تو پشتون قبائل اپنے دفاع کے لیے اسلحہ اٹھانے پرمجبور ہوجائے گا۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پشتون قبائل کا ایک جرگہ پیشن میں منعقد ہوا جس میں مختلف اقوام کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جرگے کے شرکاء نے اغواء برائے تاوان اور شدت پسندوں کی جانب سے علاقے میں جاری کاروائیوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ شدت پسندوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔

اس موقع پر پیش جرگہ کےسربراہ سردار مصطفی خان ترین نے کہا کہ طالبان کے نام پر علاقے میں کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پشین میں امن وامان کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے وزیرستان اور قبائلی علاقوں سے دہشتگرد آکر یہاں سے لوگوں کو تاوان کے حصول کے لیے اغواء کرتے ہیں اور حال ہی میں ان شدت پسندوں نےایک خاتون ڈاکٹر کوبھی اغواء کرلیاتھا۔

جرگے کے شرکاء نے حکومت سے ایک غیرسرکاری تنظیم بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ( بی آرایس پی) کے چھ کارکنوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا جن کو نامعلوم افراد نے اغواء کرکے شمالی وزیرستان پہنچا دیا ہے۔

اس موقع پر طالبان کے حماحتی جماعت جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے ضلعی سربراہ مولوی حبیب اللہ نے کہا کہ دہشت کی تمام وارداتیں حکومت کی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔کیونکہ جولوگ اغواء ہوتے ہیں وہ تاؤان کی ادائیگی کے بعد رہا ہوتے ہیں اور جولوگ تاؤان ادا نہیں کرسکے ہیں انکی لاشیں ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اغواء اور شدت پسندی میں ملوث عناصر کے پاس اسلحہ لائسنس اور کالے شیشے والی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جس کی اجازت وزارت داخلہ اور خفیہ ادارے ہی دیتے ہیں۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے پشتون قومی جرگہ کے کنوینر نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا اسلام کے نام پر مساجد میں دھماکے کرنے والوں کوجلد بے نقاب کیا جائے گا انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی جان اور مال کی تحفظ کرنےکی بجائے کرپشن پر توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرحکومت نے لوگوں کی جان اور مال کے تحفظ کے لیےاقدامات نہ کیے توعوام خود اسلحہ لیکر اپنی حفاظت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔