سربند: پولیس چوکی پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سے قبل بھی پولیس چوکی پر عسکریت پسندوں کی طرف سے دو تین مرتبہ حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ ِخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح شدت پسندوں کی جانب سے پولیس چوکی پر کیے گئے ایک حملے میں تین اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب خیبر ایجنسی کی سرحد پر واقع پشاور کے مضافاتی علاقے سربند میں پیش آیا۔

سربند پولیس چوکی کے اہلکار مشتاق نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ تقریباً تین سو کے قریب مسلح عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی میں اچانک ریاض شہید پولیس چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور ایف سی نے جوابی کاروائی کی اور چار گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں پولیس اور ایف سی کے سات اہلکار شدید زخمی ہوئے جن میں سے تین ہپستال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اور ایک ایف سی اہلکار شامل ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے پولیس چوکی میں داخل ہوکر وہاں کچھ وقت کے لیے قبضہ کیے رکھا تاہم بعد میں وہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں دونوں طرف سے راکٹ لانچر اور مارٹر گولوں کا استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ سربند میں اس سے قبل بھی پولیس چوکی پر عسکریت پسندوں کی طرف سے دو تین مرتبہ حملے کیے گئے ہیں جن میں متعدد اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم حالیہ واقعہ کئی مہینوں کے بعد پیش آیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے دو تین ہفتوں سے قبائلی علاقوں اور پشاور میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جن میں باالخصوص سکیورٹی اہلکار نشانہ بنے ہیں۔

اس سے پہلے وزیرستان اور اورکزئی ایجنسی سے پچیس کے قریب ایف سی اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ تین دن پہلے خیبر ایجنسی میں ہونے والے دھماکے میں بھی تیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں