کراچی: ایک سو اسی بھارتی ماہی گیر رہا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی مختلف جیلوں میں اب بھی دو سے زیادہ ماہی گیر قید ہیں

پاکستان نے سنیچر کو کراچی کی لانڈھی جیل میں قید ایک سو اسّی ماہی گیروں کو رہا کر دیا ہے۔

ان ماہی گیروں کو لاہور روانہ کر دیا گیا ہے جہاں انہیں اتوار کو بھارت کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ بھارتی ماہی گیر سرحد عبور کر کے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے۔

’اب مچھلی نہیں پکڑوں گا اور کھیتی باڑی کروں گا‘

پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اکثر ان ماہی گیروں کو گرفتار کرتی ہیں اور ان پر سمندری حدوود کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں اب بھی دو سے زیادہ ماہی گیر قید ہیں جبکہ بھارت میں انتیس ماہی گیر قید ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) ناصراسلم زاہد نے جمعہ کو کراچی میں پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان ماہی گیروں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ انجانے میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے بھارت کی سرحد عبور کر کے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا سمندر میں کوئی واضح حد بندی نہیں ہوتی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک کا تنازع ویسے بھی ابھی تک حل طلب ہے۔

ناصر اسلم زاہد نے کہا ان قیدیوں کی رہائی کے بعد مذید دوسو چھہتر قیدی رہا کیے جائیں گے جن میں سے تین افراد پر ابھی مقدمہ چل رہا ہے۔

تراسی ایسے قیدی ہیں جن کے بھارتی شہری ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور انہیں ان کی سزا پوری ہوتے ہی رہا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کسی دوسرے قیدی کو تو سزا پوری ہوتے ہی چھوڑا جاسکتا ہے مگر کیونکہ ایسے قیدیوں کی شہریت کی تصدیق ان کے سفارت خانے کی جانب سے کی جاتی ہے اس لیے اس میں وقت لگتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی سپریم کورٹ اپنے فیصلہ میں کہہ چکی ہے کہ جو بھی قیدی اپنی سزا مکمل کر لے تو اسے ایک دن میں قید میں رکھنا بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہوگی اسی طرح پاکستان کی سپریم کورٹ بھی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ قید پوری کرنے والوں کو فوری طور پر رہا کردینا چاہیے۔

اسی بارے میں