’دوبارہ مچھلی نہیں پکڑوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی ریاست گجرات کے رہائشی بتیس سالہ ہمت کی ہمت اب شاید ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے کہ وہ سمندر سے مچھلی پکڑ کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

ہمت پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گزشتہ تیرہ مہینوں سے کراچی کی لانڈی جیل میں قید تھے اور ان کا نام اس بھارتی ماہی گیروں کی فہرست میں شامل ہے جن کو سالِ نو کے موقع پر حکومتِ پاکستان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لانڈھی جیل کے حکام نے ہفتے کے روز ایک سو اناسی بھارتی ماہی گیروں اور ایک عام شہری کو رہا کر کے بذریعہ سڑک لاہور روانہ کر دیا۔ ان بھارتی شہریوں کو اتوار کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

ضلع جوناگڑھ کے رہنے والے ہمت نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’مجھ میں ہمت ہے اس لیے تو میں نے تیرہ مہینے جیل میں کاٹے ہیں اور اب جیل سے رہا ہو رہا ہوں تو بہت خوشی ہو رہی ہے۔ لیکن میں اپنے ملک پہنچنے کے بعد پھر دوبارہ مچھلی نہیں پکڑوں گا اور کھیتی باڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالوں گا۔

جب میں نے انہیں کہا کہ اگلی بار مچھلی پکڑنے کے لیے کراچی کی طرف آنے کے بجائے ممبئی کی طرف چلیں جانا، جس پر انہوں نے کہا کہ اب وہ مچھلی نہیں پکڑیں گے۔ ’مچھلی پکڑنے کے لیے پہلی بار سمندر میں اترا تھا اور چار دن گزر جانے کے بعد گرفتار ہو گیا۔ اب مچھلی نہیں پکڑوں گا اور کھیتی باڑی کروں گا۔ اگر خود کھانے کے لیے بھی مچھلی کو پکڑنا پڑے تو پھر بھی ایسا کام نہیں کروں گا۔‘

ہمت جیسا خوف تمام ماہی گیر محسوس کر رہے تھے اور جن سے بھی بات کی گئی تقریباً سبھی ماہی گیروں نے کہا کہ وہ اب یہ کام نہیں کریں گے۔

جوناگڑھ کے ہی رہائشی چالیس سالہ دنیش تقریباً پندرہ سالوں سے لانڈھی کی جیل میں قید تھے اور ان کے بھی ایسے ہی خیالات تھے۔ ان کا کہنا تھا ’میں دوبارہ یہ کام نہیں کروں گا کیونکہ مجھے مذید جیل نہیں کاٹنی ہے۔ بھارت جاتے ہی مچھلی پکڑنے کا کام چھوڑ کر دوسرا کام تلاش کروں گا۔‘

لیکن ایک اور ماہی گیر پرمارتھی ارجن گجرات پہنچنے کے بعد پھر سے مچھلی پکڑنے کا کام شروع کریں گے اور اس بار کافی محتاط رہیں گے۔

وہ بھی گزشتہ پندرہ سالوں سے کراچی کی جیل میں قید تھے اور انہوں نے کہا ’آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ مجھے رہائی ملی ہے اور میں کچھ دنوں بعد اپنے خاندان سے مل پاؤں گا۔‘

انہوں نے اپنی رہائی کا پورا کریڈٹ وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنے کی وجہ سے انہیں رہائی نصیب ہوئی ہے۔

کراچی میں اتنی سردی نہیں تھی لیکن پرمارتھی ارجن تھوڑا کانپ رہے تھے۔ وجہ پوچھنے پر انہوں نے کہا ’مجھے خوشی بھی بہت ہے اور ٹینشن بھی ہو رہی ہے کیونکہ میں ابھی بھی پاکستان میں ہوں اور اپنے گھر والوں سے ملنے میں چار دن لگ سکتے ہیں، اس دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

پرسو رام اوکھا کو اپنی رہائی کی خوشی تو تھی لیکن وہ اپنے ان ساتھیوں کے بارے میں فکرمند تھے، جو ابھی بھی کراچی کی جیل میں قید ہیں۔

’مجھے اپنی رہائی کی خوشی سے زیادہ اپنے ان ساتھیوں کے بارے میں تشویش ہے جو گزشتہ دو سالوں سے قید ہیں کیونکہ ان کی بھی ماں، بہن یا بیٹی ہوگی اور ان کےلیے کمانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ بس یہی فکر کھائے جا رہی ہے۔‘

یاد رہے کہ ایک سو اناسی ماہی گیروں کی رہائی کے بعد اب پاکستان میں تقریباً تین سو باسٹھ بھارتی ماہی گیر قید ہیں۔

جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ ان قیدیوں کی رہائی کے بعد مذید دوسو چھہتر قیدی رہا کیے جائیں گے جن میں سے تین افراد پر ابھی مقدمہ چل رہا ہے۔

تراسی ایسے قیدی ہیں جن کے بھارتی شہری ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور انہیں ان کی سزا مکمل ہوتے ہی چھوڑا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں