پی پی کا فائدہ، ق کا نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے آئندہ انتخابات آجکل پاکستان کے سیاسی منظر پر ہلچل کا باعث ہیں۔

سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کی سمجھ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صوبائی اسمبلیوں سے ہونے والےانتخابات کے نتیجے میں سب سے بڑا فائدہ پیپلز پارٹی اور سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ق کو پہنچےگا۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹروں کی تعداد ستائیس سے بڑھ کر سینتالیس کے لگ بھگ ہو سکتی ہے جبکہ مسلم لیگ ق کے موجودہ اکیس سینیٹروں کی تعداد کم ہو کر صرف دو رہ جانے کا امکان ہے۔

تین سیاسی جماعتوں، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کا سینیٹ سے مکمل صفایا یقینی ہے جبکہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور فنکشنل مسلم لیگ کی مکمل فراغت کا بھی قوّی امکان ہے۔

الیکشن کمشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ’سینیٹ کے انتخابات میں بڑے پیمانےپر ’ہارس ٹریڈنگ‘ ہو سکتی ہے۔ حکمران جماعت پیپلز پارٹی مرکز اور سندھ میں اندرونی خلفشار کا شکار ہے اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی اتنی سبقت نہ لے سکے جو اسمبلیوں کےموجودہ اعداد و شمار سے سامنے آ رہی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ق کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ بھی رکاوٹ بنے گی اور پنجاب سے ایک نشست کے حصول کے لیے انہیں پیپلز پارٹی کا تعاون درکار ہو گا۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی کل ایک سو نشستوں پر اس وقت پیپلز پارٹی کے ستائیس، مسلم لیگ ق کے اکیس، جے یو آئی ف کے دس، مسلم لیگ ن کےسات، ایم کیو ایم کے چھ، اے این پی کے چھ، جماعت اسلامی کے تین، بی این پی عوامی کے تین نیشنل پارٹی کے دو سینیٹرجبکہ فنکشنل مسلم لیگ، پیپلز پارٹی شیر پاؤ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک سینیٹر موجود ہے۔ اس کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے سے آٹھ اور بلوچستان کے تین سینیٹر آزاد ارکان کی حیثیت سے موجود ہیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کی رو سے سینیٹ میں اقلیتوں کے لیے بھی کل چار نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ اس طرح چاروں صوبوں سےایک ایک اقلیتی رکن کا بھی منتخب کیا جائے گا۔

دو ہزار بارہ میں سینیٹ کے نصف یعنی پچاس اور چار اقلیتی ارکان کو شامل کر کے چون نشستوں پر انتخاب ہو گا، یعنی ہر صوبے سے جنرل نشستوں پر سات، خواتین اور ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر دو دو اور ایک اقلیتی رکن کا انتخاب کیا جائے گا، جس کی ماہرین کے مطابق صورتحال کچھ اس طرح سے رہے گی۔

پنجاب

پنجاب اسمبلی کی کل تین سو اکہتر نشستوں میں سے اس وقت تین سو اڑسٹھ ارکان موجود ہیں جن میں مسلم لیگ کے ایک سو ستر، پیپلز پارٹی کے ایک سو چھ، مسلم لیگ ق کے اسی ارکان ہیں جن میں یونیفیکیشن گروپ کے سینتالیس ارکان شامل ہیں جن کی وابستگی عملاً مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔

پنجاب اسمبلی میں چھ آزاد ارکان ہیں جبکہ فنکشنل مسلم لیگ کے تین، جے یو آئی ف کے دو اور مسلم لیگ ضیاء کا ایک رکن موجود ہے۔

پنجاب اسمبلی سے فروری دو ہزار بارہ کے سینیٹ انتخاب میں جنرل نشست کے لیے ایک امیدوار کو ساڑھے باون ووٹ درکار ہوں گے جبکہ ٹیکنو کریٹ، خواتین اور اقلیتی نشست کے امیدوار کو ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

اس فارمولے کے مطابق سینیٹ کے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو سات پیپلز پارٹی کو چار اور مسلم لیگ ق کو ایک نشست مل سکتی ہے۔

سندھ

سندھ اسمبلی کی کل ایک سو اڑسٹھ میں سے اس وقت موجود ایک سو سڑسٹھ نشستوں میں سے بانوے پیپلز پارٹی، اکیاون ایم کیو ایم، گیارہ مسلم لیگ ق، آٹھ مسلم لیگ فنکشنل، تین این پی پی اور دو اے این پی کو حاصل ہیں۔

سندھ میں جنرل نشست پر ایک سینیٹر کو کامیابی کے لیے چوبیس ووٹ درکار ہوں گے۔ جبکہ ٹیکنو کریٹ، خواتین اور اقلیتی نشست کے لیے ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

ایوان بالا کے لیےانتخاب میں سندھ سے پیپلز پارٹی کے نو اور ایم کیو ایم کے تین رکن منتخب ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ق یا فنکشنل مسلم لیگ کو مفاہمتی پالیسی کے تحت ایک نشست دے دی جائے۔

خیبر پختونخواہ

صوبائی اسمبلی کے کل ایک سو چوبیس ارکان میں سے اس وقت موجود ایک سو تئیس ارکان میں سینتالیس کا تعلق اے این پی، تیس کا پیپلزپارٹی، پندرہ کا جے یو آئی ف، نو کا مسلم لیگ ن، سات کا مسلم لیگ ق، چھ کا پیپلز پارٹی شیر پاؤ سے ہے، سات ارکان آزاد ہیں جبکہ ان کے علاوہ دو آزاد ارکان حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

پختونخواہ اسمبلی میں سینیٹ کی ایک جنرل نشست کے لیے ساڑھے سترہ ووٹ درکار ہیں۔ جبکہ ٹیکنو کریٹ، خواتین اور اقلیتی نشست کے لیے ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

اس فارمولے کے تحت اے این پی کو چھ، پیپلز پارٹی کو پانچ، اور جے یو آئی ف کو سینیٹ میں ایک نشست مل سکتی ہے۔

بلوچستان

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سینیٹ کے انتخاب کے لیے صورتحال کو دلچسپ کی بجائے پریشان کن قرار دیا جا سکتا ہے جہاں پینسٹھ ارکان کا ایوان بارہ حصوں میں منقسم ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی پندرہ، ہم خیال گروپ کی تیرہ، جے یو آئی کی دس، بی این پی عوامی کی سات، حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان کی چھ، مسلم لیگ ق کی پانچ، اے این پی کی تین، نیشنل پارٹی کی ایک، مسلم لیگ ن کی ایک، جے یو آئی نظریاتی کی ایک نشست ہے اور یہ سب حکومت کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ تین رکنی اپوزیشن بھی ہے جن میں مسلم لیگ ق کا ایک اور دو آزاد ارکان شامل ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ کی ایک جنرل نشست کے لیے تقریباً نو ووٹ درکار ہیں جبکہ دیگر اسمبلیوں کی طرح یہاں بھی ٹیکنو کریٹ، خواتین اور اقلیتی نشست کے لیے ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

اس فارمولے کے تحت بلوچستان سے سینیٹ کی کونسی جماعت یا گروپ کتنی نشستیں حاصل کرے گا واضح پیش گوئی کرنا مشکل ہے لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ نئے انتخاب میں پیپلز پارٹی تین اور جے یو آئی ف دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

وفاقی دارالحکومت

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ریٹائر ہونے والے مسلم لیگ ق کے دونوں ارکان کی جگہ پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار لیں گے، کیونکہ اس کا انتخابی کالج قومی اسمبلی کا ایوان ہے جہاں پیپلز پارٹی کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

وفاق کے زیر اہتمام قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے بارہ ارکان فاٹا کے چار نئے سینیٹروں کا انتخاب کریں گے۔

دو ہزار بارہ کے انتخاب کے بعد ایوان بالا کی شکل

سینیٹ میں اس وقت پیپلز پارٹی کی ستائیس نشستیں ہیں، پانچ سینیٹر ریٹائر ہوں گے اور انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹروں کی تعداد سینتالیس تک پہنچ سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن کی اس وقت سات نشستیں ہیں ایک سینیٹر ریٹائر ہو گا اور انتخاب کے بعد نشستیں بڑھ کر تیرہ ہو سکتی ہیں۔ جے یو آئی ف کی اس وقت دس نشستیں ہیں۔ ان کےسات سینیٹر ریٹائر ہوں گے اور انتخاب کے بعد نشستیں کم ہو کر چھ رہ جانے کا امکان ہے۔

ایم کیو ایم کی اس وقت چھ نشستیں ہیں، تین سینیٹر ریٹائر ہوں گے اور انتخاب کے بعد نشستیں پھر چھ ہو سکتی ہیں۔

اے این پی کی اس وقت چھ نشستیں ہیں ایک سینیٹر ریٹائر ہو گا اور انتخاب کے بعد نشستیں بڑھ کر دس ہو سکتی ہیں۔

دو ہزار بارہ کے سینیٹ کے انتخاب کے بعد بھی پیپلز پارٹی ایوان کی سب سے بڑی پارٹی ہو گی۔ ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی عوامی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کی حمایت سے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر حکمران اتحاد کے نامزد امیدوار آسانی سے کامیابی حاصل کر لیں گے۔ تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں سینیٹ کے آئندہ انتخابات کے بعد بعض جماعتوں کو اپنے صوبائی اسمبلیوں میں ووٹ غائب ہونے کے تحقیقات کرانے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں