’بلوچستان کانفرنس میں شرکت پر غور کریں گے‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواز شریف نے دورہء بلوچستان میں کل جماعتی کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا تھا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان نے کہا کہ اگر حزب مخالف کی سب بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے بلوچستان کی صورت حال پر کل جماعتی کانفرنس بلائی تو پیپلز پارٹی اس کانفرنس میں شرکت پر غور کرے گی۔

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹ کے مطابق میاں نوازشریف بلوچستان کی صورت حال پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تمام متنازعہ معاملات کے حل کے لیے مشاورت اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے۔

’جب بھی اور جہاں بھی یہ کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوگی تو جماعت( پیپلزپارٹی) اس موجوزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ایک اعلٰی سطحی وفد بھیجنے پر غور کرے گی۔‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے جمعے کے روز کوئٹہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بلوچستان کی صورت حال پر تمام متعلقین اور سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ بلوچ قیادت کو ان کی یہ تجویز قبول کرنی چاہیے اور وہ اس ضمن میں اپنی رائے کے بارے میں مطلع کریں تا کہ ہم اپنے درمیان یکجہتی پیدا کرسکیں۔

میاں نواز شریف سنیچر کو کوئٹہ کے دو روزہ دورے کے بعد واپس لاہور پہنچ گئے ہیں۔

نواز شریف نے اپنے دورے میں بلوچستان کے کئی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے ساتھ صوبے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

نواز شریف نے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور یہ کہ نہ ہی وہاں ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ رکا ہے اور نہ ہی بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کے قاتل گرفتار ہوسکے ہیں۔

بلوچستان کی ایک علیحدگی پسند تنظیم بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ پانچ جولائی سنہ دو ہزار دس کو بلوچستان میں پہلی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک کوئی تین سو ستر افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ ان وارداتوں میں پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلجنس کے علاوہ فرنٹئیر کانسٹیبلری بھی ملوث ہیں۔

بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین بھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے عزیزوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں غائب کرتی ہیں اور انہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں تاہم حکومت نے کبھی بھی ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہیں کراوئیں۔

اسی دوران جمعے کو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن ندیم افضل چن نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ آج بھی بلوچستان میں اصل حکمرانی آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کے سربراہ افراسیاب خٹک نے وزیرِاعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو ایک خط لکھ کر بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کی درخواست کی تھی لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے اس خط کے بارے میں اپنا موقف بیان نہیں کیا۔

خط تحریر کرنے کے فوراً بعد افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں تقریباً سو سے زیادہ سیاسی کارکن مارے گئے ہیں اور بے شمار عام لوگ ہلاک ہوچکےہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بے بسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بہت سارے قتل کے واقعات ایسے ہیں جن کے پیچھے کوئی عام لوگ نہیں، ان میں ایسے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے حکومت بھی گھبراتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کے اہمیت یہ ہے کہ ایک قومی فیصلہ آئے اور اس کے بعد طاقتور افراد کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہوسکے۔

اسی بارے میں