پرویز مشرف، رواں ماہ وطن واپسی کا اعلان

Image caption سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

پاکستان کےسابق فوجی صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کراچی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ستائیس سے تیس جنوری کے درمیان کسی بھی تاریخ کو وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔

مشرف کے ریڈ وارنٹ کے لیے کارروائی شروع

دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر اشتہاری ملزم ہیں اور پاکستان آنے پر انھیں گرفتار ہونا پڑے گا۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اتوار کو کراچی میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک جسلہ عام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے کہا کہ وہ ستائیس سے تیس جنوری کے دوران کراچی پہنچے گے اور آئندہ انتخابات میں ملک کے شمالی علاقے چترال سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

یہ جلسہ بانی پاکستان قائداعظم کے مزار کے سامنے عین اس جگہ ہوا جہاں پچیس دسمبر کوعمران خان کی جماعت تحریک انصاف نےجلسہ منعقد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق صدر پرویز مشرف نے دبئی سے ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی کے جلسے سے خطاب کیا

سابق صدر نے جلسے سے خطاب میں شریک حاضرین کو زلزلہ قرار دیتے ہوئے اپنے دورِ حکومت کے دوران ملک بھر میں خاص طور پر کراچی میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا۔

انھوں نے اس موقع پر کراچی کے سابق ناظم اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم کے ہی رہنما اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی خاص تعریف کی۔

جلسہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق چھ بجے کے قریب شروع ہوا تھا اور اس وقت جلسہ گاہ میں بیس ہزار کے قریب لوگ موجود تھے تاہم غروب آفتاب کے بعد شہر میں سردی میں اضافے کے ساتھ ہی لوگوں نے جلسہ گاہ سے واپس جانا شروع کر دیا تھا۔

اس پر جلسے کے منتظمین نے سابق صدر پرویز مشرف کو پہلے خطاب کرنے کی دعوت دی اور اس وقت جسلہ گاہ میں چند ہزار حاضرین ہی موجود تھی۔

پرویز مشرف کے خطاب کے بعد آل پاکستان مسلم لیگ کی سینئیر قیادت بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد قریشی، احمد رضا قصوری اور سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز نے خطاب کیا۔

اس سے پہلے آل پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر نائب صدر راشد قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسلہ گاہ میں چالیس ہزار کے قریب کرسیاں لگائی گئی ہیں اور جسلہ جو دوپہر ایک بجے کے قریب ہونا تھا اس میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ اندرون سندھ سے پارٹی کے کارکنوں کو آنے میں تاخیر ہوئی۔

پرویز مشرف کے جلسے سے خطاب سے پہلے اور اختتام پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے سابق فوجی صدر اشتہاری ملزم ہیں اور پاکستان آنے پر انھیں گرفتار ہونا پڑے گا۔

رحمان ملک نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’پاکستان کا ایک قانون ہے اور پاکستان کے قانون کے مطابق جو بندہ اشتہاری ملزم قرار دیا جاتا ہے تو اس پرصرف ایف آئی اے ہی نہیں بلکہ پولیس کا بھی یہ فرض بنتا ہے وہ جہاں نظر آئے اس سے گرفتار کرے۔ یہ نہ وزراتِ داخلہ کہہ رہی ہے نہ یہ ہماری حکومت کہہ رہی، یہ تو آپ کا جو عدالتی نظام ہے اور جو آپ کا قانون ہے وہ کہہ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں