’ملکی دفاع، وفاق کی جماعت کا ہونا ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے چاروں صوبوں سمیت ہر حصے میں موجود ہے

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے آئین پاکستان اور وفاقی جماعت کا ہونا بہت ضروری ہے، اگر وفاق کی جماعت کو کمزور کیا جائے گا اور آئین کو توڑا جائے گا تو ملک کی سلامتی مشکل میں پڑ جائے گی۔

اتوار کو ملتان کے نواحی علاقے خانپور مڈل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور اس سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آئین کی پاسداری اور عدلیہ کا احترام نہیں کرتے ہیں، ہم ان لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آئین ہم نے دیا تھا اور اس کو اصل صورت میں بحال کرنے والے بھی ہم ہیں اور ہمارے اوپر ہی الزام ہے کہ آئین کی پاسداری نہیں کرتے ہیں۔

’میں ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو سیاست دان بن رہے ہیں اور کنگز پارٹی ہوتی ہے یہ کنگ کے جاتے ہی دفن ہو جاتی ہے، پیپلز پارٹی عوام کی جماعت ہے اور یہ چاروں صوبوں سمیت ملک کے ہر حصے میں موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اور ملک کے دفاع کے لیے دو چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے اس میں ایک ملک کا آئین اور دوسری وفاق کی جماعت اور اگر وفاق کی جماعت کو کمزور کیا جائے گا، آئین کو توڑا جائے گا تو اس صورت میں ملک کی سلامتی مشکل میں پڑ جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارا عوام سے وعدہ ہے کہ آئین کا تحفظ کریں گے اور اداروں کا احترام کریں گے، آئین کے مطابق چلیں گے اور دھڑلے کے ساتھ وزارتِ عظمیٰ پر قائم رہیں گے اور جب تک عوام کی تائید حاصل ہے اس وقت تک کرتے رہیں گے۔‘

وزیراعظم گیلانی نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینطیر بھٹو کو جان سے مار سکتے تھے لیکن ان کے خیالات کو ختم نہیں کر سکتے ہیں اور ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ’پہلے ایک سازش ہوتی تھی اور حکومت گر جاتی تھی لیکن آج مسلسل چار سال سے ہمارے خلاف ہر طرف سے سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن عوامی طاقت اور اتحادیوں کی طاقت کی وجہ یہ سازشیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔‘

وزیراعظم گیلانی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ملک کے آئین کو اصل صورت میں بحال کرتے ہوئے چھوٹوں صوبوں کو خودمختار کر دیا ہے اور اب ہم سرائیکی صوبہ دیں گے اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کسی طریقے سے نہ بنے اور اس حوالے سے بیانات دیے گئے ہیں کہ ہم مداری کا کردار ادا کر رہے ہیں اورصوبہ بنانا نہیں چاہتے ہیں تو میں ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیں طریقہ بتائیں کہ ووٹوں کے ذریعے صوبہ بنایا جائے یا اس حوالے سے کوئی تحریک شروع کی جائے، لیکن میں ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کے عوام اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور حکومت ان کو حق دے گی۔

اسی بارے میں